Al-Risala · March 2002 · page 84

It is a vision of a great thinker.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۸۴

سے جو سب سے بہتر سمجھا جائے گا اس کی اشاعت کی جائے گی ۔ تینوں گروپ نے اپنے اپنے ڈاکومنٹ تیار کئے ۔

کانفرنس کے آرگنائز راندرے بائی کاف کو ان تینوں میں سے کوئی بھی پسند نہیں آیا۔ ۲۹ جولائی کی رات کو اندرے بائی کاف میرے کمرے میں آئے۔ وہ کافی اداس معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پروفیسر صاحبان کے گروپ نے تین ڈاکومنٹ بنائے ہیں۔ مگر تینوں مجھے پسند نہیں آ رہے ہیں۔ کل کے اجلاس میں ہمیں ایک منظور شدہ ڈاکومنٹ کا نفرنس میں پیش کرنا ہے۔ مگر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کل کے دن میں کیا چیز پیش کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسا ڈاکومنٹ چاہتے ہیں جو روحانی انداز میں لکھا گیا ہو، جو لاکھوں لوگوں کے دلوں کو متاثر کرے۔

I want a document which can move the heart of the millions. انہوں نے کہا کہ میں نے یہاں کے بڑے چرچ میں جاکر دعا کی ہے اور میرا دل کہتا ہے کہ آپ وہ ڈاکومنٹ تیار کر سکتے ہیں جو کہ ہم چاہتے ہیں۔ چنانچہ رات کو کئی گھنٹہ محنت کر کے میں نے یہ ڈاکومنٹ تیار کیا اور صبح اس کو کمپیوٹر پر ٹائپ کروایا۔ اجلاس شروع ہونے سے کچھ پہلے یہ ڈاکومنٹ میں نے اندرے بیکا ف کے حوالے کر دیا۔ وہ اس کو پڑھ کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ میں ایسا ہی ڈاکومنٹ چاہتا تھا۔ انہوں نے پروفیسروں کے تیار کئے ہوئے بقیہ تینوں ڈاکومنٹ کو رد کر دیا اور میرے ڈاکومنٹ کو منظوری دے دی۔ جب یہ ڈاکومنٹ کا نفرنس میں پڑھ کر سنایا گیا تو تمام لوگوں نے اس کو بہت پسند کیا۔ ایک پروفیسر نے اس کو ونڈرفل بتایا۔ ایک مغربی پروفیسر نے کہا:

It is a vision of a great thinker.

میرا تیار کیا ہوا یہی ڈاکومنٹ کانفرنس کا تشریحی ڈاکومنٹ قرار پایا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کر کے ہر جگہ پھیلایا جائے ۔ یہ ڈاکومنٹ زیر نظر شمارہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ۳۰ جولائی کو دوپہر کے کھانے کا انتظام ڈگ کے مذکورہ تاریخی محل میں تھا۔ قدیم شاہی انداز میں لوگوں کو کھانا کھلایا گیا۔ کھانے کے برتن وغیرہ سب شاہی نمونہ کے تھے۔ ایک خوبصورت منقش

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page