I would love to take it away.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۸۵
پلیٹ کو دیکھ کر میرے سامنے بیٹھے ہوئے ایک پروفیسر صاحب نے کہا ’’میرا جی چاہتا ہے کہ میں اس پلیٹ کو اپنے گھر لے جاؤں‘‘:
I would love to take it away.
یہی منقش پلیٹ میرے سامنے بھی تھی۔ مگر میں نے اس کو غور سے دیکھا بھی نہیں تھا۔ مذکورہ پروفیسر صاحب کی بات کو سن کر میں نے اس کو دیکھا تو میرے دل نے کہا کہ اگر میزبان خود سے مجھے ایسی سو پلیٹیں دیں تب بھی میں ان کو اپنے ساتھ لے جانا پسند نہیں کروں گا۔ لوگ عام طور پر اسی قسم کی تفریحی باتیں پسند کرتے ہیں۔ میں خاموشی کے ساتھ یہ سوچتا رہا کہ انسان کو چاہئے کہ وہ دنیا کی نعمتوں کو دیکھ کر آخرت کی نعمتوں کو یاد کرے۔ مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ قرآن کے مطابق، دنیا میں گم ہو کر آخرت کو بھول گئے ہیں (الدھر ۲۷)
زگ کے پروگرام کے بعد ہمارا قافلہ آگے کی طرف بڑھا۔ سڑک کے دونوں طرف دور تک سارا ماحول قدرتی پارک کی طرح دکھائی دیتا تھا۔ نہایت عمدہ سڑک، منظم انداز میں چلتی ہوئی سواریاں، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے پورا ملک ایک چمنستان ہے۔ سوئزرلینڈ کی یہ روایت ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں بہت زیادہ پھول لگاتے ہیں۔ چنانچہ ہر گھر بجائے خود پھولوں کا ایک گلدستہ معلوم ہوتا ہے۔ میں نے سوچا کہ سوئزرلینڈ کو جن لوگوں نے اس طرح سنوارا اور سجایا ہے وہ اپنے ملک کو صرف ایک ملک سمجھتے ہیں، نہ کہ دیوتا۔ میں نے سوچا کہ دیش بھکتی کا معیار ملک کو سنوارنا ہے نہ کہ ملک کو دیوتا سمجھ کر اس کو رسمی طور پر پوجنا۔
زگ میں نیوکلیئر ڈس آرمامنٹ فورم کی ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں ایک سائنس داں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ساری دنیا میں ایٹم بموں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور روس کے پاس۔ بہت دنوں سے ان ذخیروں کو ناکارہ بنانے کی بات چل رہی تھی۔ اب یہ تحریک شروع ہوئی ہے کہ ان بموں سے پلوٹونیم کو نکال لیا جائے جو کہ نیوکلیئر انرجی کا خاص ذریعہ ہے۔ اور ان کو تعمیری مقصد کے لئے فروخت کر دیا جائے۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ پلوٹونیم بے حد قیمتی عنصر ہے۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues