Al-Risala · March 2002 · page 86

I would love to take it away.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۸۶

اتنا مہنگا ہے کہ عراق کے صدر کو چار یا پانچ ایٹم بم بنانے کے لئے جو پلوٹونیم خریدنا ہوگا اس کی قیمت اتنی زیادہ ہوگی کہ ہمارا یہ کمرہ سونے سے بھر جائے ۔ ژگ کا کمرہ اتناہی بڑا تھا جتنا کہ نظام الدین میں میرے دفتر کا کمرہ ۔

راستہ میں ہم لوگ شہر لوسرن (Lucerne) میں ٹھہرے۔ لوسرن سوئزر لینڈ کی ایک جھیل ہے۔ اسی کے اوپر شہر کا یہ نام پڑا ہے۔ یہاں ہم لوگ ۳۰ جولائی کی سہ پہر کو کچھ دیر کے لئے ٹھہرے۔ ہمارے ساتھیوں نے شہر میں جاکر شاپنگ کی۔ مجھے بچپن سے کبھی شاپنگ کا شوق نہیں ہوا۔ چنانچہ میں وہاں کی جھیل کے پاس چلا گیا۔ یہ ایک خوب صورت آبی ذخیرہ ہے۔ اس کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ پانی جس پر انسانی زندگی کا انحصار ہے اسے اللہ تعالیٰ نے کتنا زیادہ وافر مقدار میں زمین پر رکھ دیا ہے۔ یہ ایک انتہائی استثنائی واقعہ ہے۔ کیوں کہ اب تک کی معلومات کے مطابق، وسیع کائنات میں کہیں پانی کا ایک قطرہ بھی موجود نہیں۔

لوسرن سے روانہ ہو کر ہم لوگ ۳۱ جولائی کی شام کو اپنے ہوٹل پہنچے۔ یہاں کا ماحول اتنا زیادہ فطری تھا کہ میں نے اپنے ہوٹل کے کمرہ کو کبھی مقفل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ سفر کے دوران پورا راستہ سر سبز اور سجا ہوا نظر آیا۔ ایک عجیب بات یہ تھی کہ سوئزر لینڈ کے مختلف علاقوں میں سفر کرتے ہوئے کہیں بھی پولیس اور فوج یا پرائیویٹ گارڈ دکھائی نہیں دیئے۔ پورا ملک جس طرح قدرتی مناظر سے ڈھکا ہوا ہے اسی طرح یہاں کے لوگ اپنی انسانی فطرت پر قائم ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں بہتر زندگی کی تعمیر کے لیے یہ دونوں چیزیں بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ مادی دنیا میں کوئی بگاڑ پیدا کئے بغیر اس کو اپنی اصل تخلیقی حالت میں محفوظ رکھنا، اور انسان کو اس کی فطری صفات پر قائم رکھنا۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ ”موجودہ زمانہ میں پوری دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے“ مگر یہ بات زیادہ کمیونیکیشن کے اعتبار سے ہے۔ جہاں تک خود انسان کا تعلق ہے، اس کی وحدت ٹوٹ گئی ہے۔ انسان کا داخلی وجود(inner being) اور خارجی وجود(external being) ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ۔ سوسائٹی کی اس تفریق کا اظہار موجودہ زمانہ میں اس شکل میں ہوا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page