I would love to take it away.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۸۷
کہ جو لوگ سیاسی اقتدار کے مالک ہیں وہ ارباب دانش نہیں۔ اور جو ارباب دانش ہیں وہ سیاسی اقتدار میں دخل نہیں رکھتے:
میں نے کہا کہ یہ دانش اور بے دانش کے فرق کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ اقتدار اور بے اقتدار کے فرق کا معاملہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ بگڑنے والی چیز اقتدار ہے۔ جو لوگ اقتدار سے باہر ہیں اور بظاہر دانش مندی کی بات کرتے ہیں وہ بھی اگر اقتدار کی گدی پر پہنچ جائیں تو ان کا حال بھی وہی ہوگا جو موجودہ ارباب اقتدار کا دکھائی دیتا ہے۔
ایک صاحب نے مقالہ کی صورت میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس مقالہ میں انہوں نے روحانی اقدار کی اہمیت بتائی۔ اس سلسلہ میں انہوں نے کہا کہ گلوبلائزیشن کا دور آنے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آزادی ختم ہوگئی اور روحانی اقدار کا نظام زیادہ سے زیادہ بے اثر ہوگیا: یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے علمی تجزیے اکثر کتنا زیادہ غیر عملی ہوتے ہیں۔ مذکورہ عبارت میں صاحب مقالہ نے روحانی اقدار کے زوال کو گلوبلائزیشن کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ روحانی اقدار کے زوال کا سبب جدید مادیت ہے۔ جدید مادیت نے یہ کیا کہ اس نے مادی زندگی کو اتنا زیادہ پرکشش اور پر لذت بنا دیا کہ ہر آدمی اس کی طرف دوڑ رہا ہے۔ اس دوڑ میں اخلاقی اور روحانی قدریں پس پشت چلی گئی ہیں۔ گلوبلائزیشن خود قاتل روحانیت نہیں ہے البتہ وہ مادی دوڑ میں لوگوں کے لئے ایک معاون وسیلہ ضرور ثابت ہوا ہے۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کچھ مشہور شخصیتوں کے نام لئے۔ اور کہا کہ یہ لوگ اس لائق تھے کہ انہوں نے اپنے نظریات کی طاقت کے ذریعہ پوری نسل کو ہلا دیا۔ اور ان کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنی زندگی پر نظرثانی کریں:
‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues