Al-Risala · March 2002 · page 88

Clash of Civilizations, by Samuel P Huntington

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۸۸

جن مشہور شخصیتوں کو یہ کریڈٹ دیا جاتا ہے کہ انہوں نے فکری انقلاب پیدا کیا اور پوری نسل کو بدل دیا وہ میرے نزدیک درست نہیں۔ اس قسم کی شخصیتوں نے عام طور پر جو کارنامہ انجام دیا وہ صرف جزئی معنوں میں فکری انقلاب تھا۔ کلی معنوں میں فکری انقلاب پیدا کرنے والی تاریخی شخصیت صرف ایک ہے، اور وہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب’’پیغمبرِ انقلاب‘‘۔ یہ کتاب کئی زبانوں میں چھپ چکی ہے۔

ایک صاحب نے ایک امریکی صحافی کی ایک کتاب کا ذکر کیا جو اب کافی مشہور ہو چکی ہے اور اس کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ وہ کتاب یہ ہے:

Clash of Civilizations, by Samuel P Huntington

اس کتاب کے مصنف نے بتایا ہے کہ کمیونزم کے زوال کے بعد اب مغرب کی مسیحی قوموں کا تصادم مسلم اقوام سے پیش آنے والا ہے۔ اس کے لئے زمین تیزی سے تیار ہو رہی ہے۔ مصنف نے گویا مغرب کی مسیحی قوموں کو ابھارا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں ایک مسلح تصادم کے لئے تیار رہیں۔ میں نے کہا کہ مسلح تصادم کی یہ بات مجھ کو محض ایک فرضی خطرہ معلوم ہوتی ہے۔ میرے نزدیک عمومی معنوں میں ایسا کوئی مسلح تصادم پیش آنے والا نہیں۔ البتہ دونوں کے درمیان ایک اور تصادم جاری ہے، یہ پرامن فکری تصادم ہے۔ یہ تصادم صدیوں سے جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ مگر یہ کوئی بُرائی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی فکری تصادم تھا جس نے مغرب کی نشأۃ ثانیہ کو پیدا کیا۔ میرا خیال ہے کہ یہ فکری تصادم آئندہ بھی انشاء اللہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرے گا۔ مثلاً اس کے نتیجہ میں مادیت کا زوال اور روحانی عہد کا آغاز، بے قید آزادی کے بجائے پابند آزادی کے تصور کا رواج، وغیرہ۔ مسٹر اندرے بائیکوف (Andrey Bykov) کا ایک تفصیلی پیپر کانفرنس کے شرکاء کو پڑھنے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page