Al-Risala · March 2002 · page 89

Clash of Civilizations, by Samuel P Huntington

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۸۹

کے لئے دیا گیا۔ اس میں بہت سی باتیں تھیں ۔ ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ انہوں نے مشہور مورخ آرنلڈ ٹوائن بی کے حوالہ سے کہا تھا کہ اس دنیا کے لئے فطرت کا ایک قانون یہ ہے کہ کسی سماج میں جو لوگ اقلیت میں ہوں وہ خود سماج کے داخلی میکانزم کے تحت تخلیقی اقلیت (creative minority) کی صورت اختیار کرتے چلے جائیں ۔ اور جو لوگ سماج میں اکثریت کی حیثیت رکھتے ہوں، وہ دھیرے دھیرے غیر تخلیقی اکثریت (uncreative majority) کی صورت اختیار کرلیں۔

یہ بات مسٹر اندرے بائیکوف (Andre Bykov) نے نہایت درست کہی۔ اقلیت اور اکثریت کے بارے میں یہ بات بلاشبہ ایک حقیقت ہے۔ یہ فطرت کا ایک لازمی قانون ہے۔ یہ قانون اقلیتی گروہ کے لئے بلاشبہ ایک بشارت کی حیثیت رکھتا ہے۔

مگر اس معاملہ میں فطرت کا قانون صرف پچاس فیصد کام کرتا ہے۔ بقیہ پچاس فیصد کام اقلیت کے رہنماؤں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے موقع پر اگر اقلیت کے رہنما با شعور ہوں تو وہ یہ کریں گے کہ وہ فطرت کے اس قانون سے اقلیت کے لوگوں کو شعوری طور پر باخبر کرائیں گے۔ وہ بتائیں گے کہ اکثریت کی طرف سے تم کو جو دباؤ پیش آرہا ہے وہ ایک فطری چیلنج ہے جو عین تمہارے حق میں ہے۔ وہ تمہارے لئے ترقی کا زینہ ہے۔ اس کے برعکس اگر اقلیت کے رہنما بے شعور لوگ ہوں تو وہ اکثریت کے دباؤ کو ظلم اور سازش قرار دے کر فریاد کریں گے اور اقلیت کو منفی ذہن میں مبتلا کر دیں گے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فطرت کا قانون ، ہر رکاوٹ کے باوجود، آخر کار غالب آتا ہے۔ غیر دانش مند رہنما اپنی منفی باتوں سے صرف وقتی طور پر اقلیتی قافلہ کے سفر کو روک سکتے ہیں۔ مگر آخر کار فطرت کا قانون بالا ثابت ہوتا ہے اور اقلیتی گروہ نام نہاد لیڈروں کو چھوڑ کر خود فطرت کی رہنمائی میں آگے بڑھتا ہے، یہاں تک کہ وہ کامیابی کی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔

ایک صاحب نے اپنے پیپر میں یہ بات کہی کہ ہم کو ایک ایسی سوسائٹی کی ضرورت ہے جس میں مکمل ہارمنی ہو۔ جس کے اندر مختلف گروہوں کے لوگ مل جل کر رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سوشل ہارمنی کا ماڈل ہم کو گلوبل ڈائیلاگ کے ذریعہ مقرر کرنا ہوگا۔ میں نے کہا کہ یہ بات بجائے خود

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page