Al-Risala · March 2002 · page 90

Clash of Civilizations, by Samuel P Huntington

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۹۰

درست ہے کہ سوشل ہارمنی کے بغیر مجموعی ترقی نہیں ہوسکتی۔ مگر سوشل ہارمنی کا ماڈل ہمیں ڈسکسن کے ذریعہ طے کرنا نہیں ہے، وہ بروقت ہی فطرت کے اندر موجود ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس کو دریافت کر کے اپنی زندگی میں اسے استعمال کریں جس طرح ہم فطرت کے فزیکل قوانین کو دریافت کرکے ان کو اپنی ٹیکنالوجی میں استعمال کر رہے ہیں:

It is a fact that we need a value-based society rather than a society based on material values. But at the same time we had an acceptable model which may serve as a point of reference for all. And I think that the Nature provides us that kind of model. We need an understanding rather than a dialogue. ایک صاحب نے اپنے مقالہ میں کہا کہ موجودہ زمانہ کو اسپیشلا ئزیشن کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ مگر اس قسم کی تعلیم نے نئے نئے مسئلے پیدا کئے ہیں۔ موجودہ نظام تعلیم سے ایسے نوجوان تیار ہو کر نکل رہے ہیں جو جامع قسم کی معلومات نہیں رکھتے، خاص طور پر انسانیات کے بارے میں۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانتے ہیں:

They do not receive suffciently comprehensive knowledge, particularly in the humanities. They are learning more and more about less and less. یہ بات بجائے خود درست ہے۔ مگر یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ جدید صنعتی تمدن کو چلانے کے لئے جو افراد درکار ہیں ان میں اسی قسم کی صلاحیتیں مطلوب ہیں۔ یہ جدید تمدن کی ایک ضرورت ہے۔ اگرچہ یہ بھی صحیح ہے کہ اس قسم کے جزئی متخصص ٹیکنکل کاموں کے لئے مفید ہو سکتے ہیں مگر وہ انسانی علوم کی ترقی میں مددگار نہیں ۔ اس معاملہ میں ہمارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ دونوں میں سے کسی ایک میں ترقی اور دوسرے میں قناعت کا طریقہ اختیار کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ صورت حال کنزیومرزم کی پیداوار ہے، وہ انسان کی کسی واقعی ضرورت کی پیداوار نہیں۔ مثلاً سڑک پر سفر کرنے کے لئے ماروتی جیسی کار کافی ہے۔ پھر (Ferrari) جیسی انتہائی قیمتی کار کیوں بنائی جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page