Al-Risala · March 2002 · page 91

Clash of Civilizations, by Samuel P Huntington

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۹۱

ایک پروفیسر صاحب نے اپنی تقریر میں اخلاقی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سفر کر کے مختلف یونیورسٹیوں کے ذمہ داروں سے ملاقات کی، مگر مجھ کو کہیں سے حوصلہ بخش جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ پیشہ ورانہ کورس اب اخلاقیات کی تعلیم نہیں دیتے۔ وہ صرف یہ سکھاتے ہیں کہ قانون کے تصادم سے کس طرح بچا جائے۔ اخلاقیات کو بطور مضمون کہیں پڑھایا نہیں جاتا: Iwas told that professional development courses do not teach ethics now. They only teach how to avoid conflict with law. Ethics as such is not taught at all. میں نے کہا کہ انسانی زندگی میں اخلاق کی اہمیت بلا شبہ مسلم ہے۔ مگر موجودہ سوسائٹی میں ہم اخلاقی قدروں کو صرف اس طرح زندہ نہیں کر سکتے کہ سیکولر تعلیم کے موجودہ نظام میں اخلاق کے موضوع پر بھی ایک کتاب شامل کر دیں۔ اس قسم کی کوشش ہاتھی کی دم میں پتنگ باندھنا ہے۔ یہ معاملہ اس سے زیادہ سنگین ہے کہ تعلیمی نصاب میں جزئی ترمیم کر کے اس کو حاصل کیا جا سکے۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہر آدمی کو داخلی ترقی کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم بہت سی تاریخی مثالوں میں دیکھ سکتے ہیں کہ اس قسم کی روحانی ترقی صرف اس انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے جس نے یہ جان لیا ہو کہ اس کا ہر لمحہ شاید آخری لمحہ ہو: Every person needs inner growth. We can see from many historical examples that such a concerted spiritual growth can come to a person only once he has realised that each and every moment may be his last. مذکورہ مقرر نے یہ بات بظاہر دنیوی معنوں میں کہی تھی مگر یہ بات مزید اضافہ کے ساتھ آخرت کے معنی میں درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موت اور آخرت کا تصور روحانی ارتقاء کے لیے سب سے زیادہ مؤثر حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موت اور آخرت کا عقیدہ آدمی کو ہر لمحہ اس اندیشہ میں مبتلا رکھتا ہے کہ کب اس دنیا میں اس کا خاتمہ ہو جائے اور عمل کا موقع اس سے چھن جائے۔

ایک مقرر نے شوماخر کی کتاب ”چھوٹا خوبصورت ہے“ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک مشرقی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page