Clash of Civilizations, by Samuel P Huntington
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۹۲
مثل ہے کہ ایک گرتے ہوئے درخت کی آواز ہمیشہ اگتے ہوئے جنگل سے زیادہ ہوتی ہے۔ دھیمی ترقی لوگوں کو بہت زیادہ متوجہ نہیں کرتی :
This idea was expressed long ago by E. F. Schumacher in his book Small is Beautiful. A falling tree is always louder than a growing forest. Steady development does not attract great attention. یہ بات درست ہے۔ عام طور پر لوگوں کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ وہ ظاہر کے اعتبار سے اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی کوششیں ہمیشہ زیادہ بڑا نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ لوگ پرشور واقعات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہ مزاج ماضی میں بھی تھا اور آج بھی یہی مزاج لوگوں میں موجود ہے۔
ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ کسی سماج میں امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب کہ لوگوں کے دلوں میں بھی امن قائم ہو چکا ہو :
Peace in society is possible only if peace reigns in the hearts of men. یہ بات بلاشبہ درست ہے۔ امن کے نام پر سیاسی ہنگامہ یا امن کے نام پر نظام کی توڑ پھوڑ سے کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ امن قائم کرنے کی جدوجہد کا آغاز فرد سے ہوتا ہے، نہ کہ خارجی ڈھانچہ سے۔
اسی طرح ایک صاحب نے کہا کہ مادی ذرائع محدود (limited) ہیں اور ان میں محدود ترقی ہی ممکن ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہمارے روحانی ذرائع (spiritual resources) لامحدود ہیں۔ روحانیت کے میدان میں ترقی کی کوئی حد بندی نہیں۔
یہ بات بالکل درست ہے اور کہنے میں بھی بہت اچھی معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ ساری تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے گزرے ہیں جو روحانیت کے میدان میں لامحدود ترقی کے امکانات کو حاصل کرنے کی کوشش کریں، اور اس سے بھی کم وہ لوگ ہیں جنہوں نے فی الواقع اس امکان کو اپنے حق میں واقعہ بنایا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues