Clash of Civilizations, by Samuel P Huntington
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۹۳
ایک صاحب نے اپنے مقالہ میں وائلنس پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ صدیوں سے لوگ انگنت لڑائیوں کو جھیل رہے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ خدا کیوں اس میں مداخلت نہیں کرتا اور لوگوں کی ہلاکت کو نہیں روکتا۔ میرے نزدیک اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ خدا مرکز میں ہے، اور لڑائیاں بیرونی سطح پر ہورہی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم بیرونی سطح سے مرکز کی طرف منتقل ہوں۔ ہمارا نشانہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم با اقتدار اشخاص کی ایک جماعت بنائیں جو اس سے اوپر ہوں کہ کوئی انہیں استعمال کرسکے: For centuries people suffering from countless wars have asked why God does not intervene and stop the killing of fellow men. The answer is, in my view, simple: God is at the centre, the wars take place at the periphery. It is time that we returned from the periphery to the centre. Our goal must be to create a community of sovereign personalities, who are above manipulation. یہ بات صحیح نہیں۔ دنیا میں لڑائیوں کا سلسلہ اس لئے نہیں ہے کہ خدا انسانی دنیا سے دور کسی اندرونی مرکز میں ہے۔ اصل یہ ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدا کے علم اور قدرت کے تحت ہو رہا ہے۔ خدا نے امتحانی منصوبہ کے تحت لوگوں کو ایک مدت تک کے لئے آزادی دے دی ہے۔ جنگ اسی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔ موجودہ حالات کسی با اقتدار جماعت کے روکنے سے ختم نہ ہوں گے ۔ وہ صرف اس وقت ختم ہوں گے جب کہ خدا کی مقرر کی ہوئی امتحانی مدت کا خاتمہ ہو جائے۔ ایک پروفیسر نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانہ میں چرچ سخت دفاعی پوزیشن میں ہیں۔ ان کی مدد کی ضرورت ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خود اپنے مذہب کے بارے میں لوگوں کی معلومات بہت کم ہیں۔ یہ نظریہ پھیلا دیا گیا ہے کہ چرچ جن باتوں کی تبلیغ کرتے ہیں وہ آج کے حالات کے مطابق نہیں۔
اس معاملہ کی وضاحت کے لئے انہوں نے صرف ایک مثال دی، اور وہ اسقاط (abortion) تھا۔ میں نے کہا کہ یہ مثال زیادہ متعلق مثال نہیں۔ مذہب کا دور جدید سے متعلق یا غیر متعلق ہونا، اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ مذہب کی بنیادی تعلیمات کس حد تک زمانہ حال سے متعلق یا غیر متعلق ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues