Clash of Civilizations, by Samuel P Huntington
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۹۴
جہاں تک اسقاط جیسے معاملہ کا تعلق ہے، اس سے مذہب کی دوامی قدر و قیمت کی تردید نہیں ہوتی۔ اسقاط کو درست سمجھنا ایک عملی انحراف کا مسئلہ ہے۔ مذہب کی صداقت کو جانچنے کا معیار کسی سماج کا عملی انحراف نہیں۔ اس کا معیار صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے سائنٹفک تحقیق کے ذریعہ کوئی واقعی طور پر ثابت شدہ حقیقت۔ کوئی بھی تیسری چیز مذہب کی صداقت کو مشتبہ نہیں کرتی۔
ایک صاحب نے اپنی گفتگو میں آرچ بشپ ڈاکٹر ڈسمانڈ ایم ٹوٹو(Dr. Desmond M Tutu) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہودیت اور مسیحیت اور اسلام کے درمیان جو مذہبی اختلافات ہیں، ان پر ڈائیلاگ جاری رکھنا بہت اچھا ہے۔ مگر ان اختلافات کا مستقل حل یہ ہے کہ تینوں مذاہب باہمی رواداری(mutual tolerance) کے اصول کو اختیار کر لیں۔
میرے نزدیک یہ بات بالکل درست ہے اور مذہبی اختلافات کا یہی قابلِ عمل حل ہے۔ ڈائیلاگ کا طریقہ ہماری معلومات میں اضافہ کر سکتا ہے اس لیے اُس کو جاری رہنا چاہئے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ڈائیلاگ کے ذریعہ مذاہب کا کوئی ایک یونیورسل ورزن تیار نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان جب بھی ہم آہنگی کا ماحول قائم ہوگا تو وہ باہمی عزت اور باہمی رواداری کے ذریعہ قائم ہوگا۔
ایک مقرر نے اپنی تقریر میں پروفیسر ونڈل بری(Wendell Berry) کا حوالہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پروفیسر موصوف نے مذہب اور کلچر کے اختلافات کے مسئلہ کو حل کرنے کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ علمی مباحثہ کے بجائے دل جوئی کا انداز اختیار کیا جائے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے اپنے لمبے سفر حیات میں یہ اہم بات دریافت کی ہے کہ ذہنی ڈائیلاگ کے مقابلہ میں قلبی ڈائیلاگ زیادہ موثر ہے:
An important conclusion of my year-long journey is that a dialouge of the heart is much more effective than a dialogue of the mind. یہ بات بظاہر خوب صورت معلوم ہوتی ہے۔ مگر وہ زیادہ با معنی نہیں ۔ یہ صحیح ہے کہ "قلبی ڈائیلاگ" سے بھیڑ اکٹھا ہوتی ہے۔ مگر بھیڑ اکٹھا کرنے سے کیا فائدہ جب کہ اصل بات ہی مبہم
‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues