سویٹر لینڈ ـــــــــ لینڈ آف پیس
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۹۵
ہوکر رہ جائے ۔ میرے نزدیک زیادہ درست بات یہ ہے کہ لوگوں کے اندر غیر ضروری حساسیت کو ختم کیا جائے۔ لوگوں کے اندر یہ مزاج بنایا جائے کہ وہ مذہبی اختلافات پر اسی طرح کھلی بحث کر سکیں جس طرح سائنس کے شعبوں میں کھلی بحث کی جاتی ہے۔ یہاں لوگ اختلاف اور اتفاق سے قطع نظر صرف یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ امر واقعہ کیا ہے ۔ میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ سائنٹفک ڈسکشن کا یہی مزاج اہل مذاہب کے درمیان بھی پیدا کیا جائے۔
سویٹر لینڈ ـــــــــ لینڈ آف پیس
اگر آپ گاندھی کے پیس فل ایکٹوزم کو جاننا چاہتے ہیں تو ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کو پڑھیے۔ اور اگر آپ گاندھی کی peaceful living کو جاننا چاہتے ہیں تو سویٹر لینڈ کا سفر کیجئے۔ سویٹر لینڈ بیک وقت دو چیزوں کا نمونہ ہے ۔ فطرت کا حسن اور پرامن زندگی۔
۲۵ جولائی ۲۰۰۱ کو جب ہم سوئس ائیر سے سفر کر کے زیورک ائیر پورٹ پر اترے تو اس کے نظم اور سلیقہ کے علاوہ دوسری غیر معمولی چیز یہ نظر آئی کہ وہاں پولیس اور فوج کی وردی میں کوئی شخص دکھائی نہیں دیا۔
سویٹر لینڈ یورپ کا ایک چھوٹا اور لینڈ لاکڈ کنٹری ہے۔ وہ اٹلی، فرانس ، جرمنی اور آسٹریلیا کے درمیان واقع ہے۔ مگر لینڈ لاکڈ ہونے کے باوجود وہ اپنی اوپن پالیسی کی بنا پر پوری دنیا سے اس طرح جڑا ہوا ہے کہ وہ سچ مچ ’گلوبل ولیج‘ کا نمونہ بن گیا ہے۔ ۲۰۰ سال پہلے سرحدی ملکوں سے سویٹر لینڈ کے کئی جھگڑے تھے مگر سویٹر لینڈ کے لوگوں نے گیوانڈ ٹیک کے اصول پر ہر ملک سے اچھے تعلقات قائم کر لئے۔ اس کے بعد سویٹر لینڈ نے کسی بھی سرحدی ملک سے اختلاف کا چیپٹر نہیں کھولا۔ اسی کے ساتھ سویٹر لینڈ کے اندر مختلف قومیں، مختلف زبانیں اور مختلف کلچر موجود تھے۔ مگر سویٹر لینڈ نے ہر ایک کو یکساں طور پر ترقی کرنے کی آزادی دے دی۔ مزید یہ کہ سویٹر لینڈ میں کٹر پن یا انتہا پسندانہ ذہن کبھی نہیں ابھرا۔ اس اتحاد اور ایڈجسٹمنٹ کا فائدہ سویٹر لینڈ کو یہ ملا کہ اس کے یہاں ترقی کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل طور پر جاری رہا ۔ چنانچہ دو سو سال سے سویٹر لینڈ اقتصادی ترقی کے راستہ پر گامزن ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues