Al-Risala · March 2002 · page 96

سویٹر لینڈ ـــــــــ لینڈ آف پیس

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۲، صفحہ ۹۶

تسلسل کو توڑے بغیر وہ ترقی کے راستہ پر چلا جا رہا ہے۔ سوئزر لینڈ کی اقتصادی ترقی اور استحکام کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ یہ کہ ایک سوامریکی ڈالر ڈھائی سوسوئس فرینک کے برابر ہوتا ہے۔ جب کہ ایک سوامریکی ڈالر تقریبا ۵ ہزار ہندوستانی روپیہ کے برابر ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ایک مغل بادشاہ نے جب کشمیر کو دیکھا تو اس نے کہا کہ جنت اگر زمین پر ہے تو وہی کشمیر ہے:

اگر فردوس برروئے زمین است ہمیں است وہمیں است وہمیں است لیکن ایک طرف کشمیر اپنے لیڈروں کی غلط پالیسی کے نتیجہ میں تباہ ہوتا رہا اور دوسری طرف اسی مدت میں سوئزرلینڈ کو اس کے دانشمند لیڈروں کی تعمیری پالیسی کے نتیجہ میں سنوارا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ اب مذکورہ فارسی شعر کشمیر کے بجائے سوئزرلینڈ پر صادق آتا ہے۔ ہمارے ساتھ ایک معمر کشمیری خاتون بھی تھیں ۔ وہ سوئزرلینڈ کو دیکھ کر روپڑیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کشمیر آج اس سے بھی اچھا ہوتا مگر نادانوں نے اس کو تباہ کر دیا۔

سوئزر لینڈ کے مختلف حصوں میں دور دور تک گاڑی کے ذریعہ جانے کا موقع ملا۔ کہیں بھی سڑک ٹوٹی ہوئی نہیں ملی۔ کہیں بھی سڑک کے دونوں طرف کوئی گاڑی الٹی ہوئی دکھائی نہیں دی۔ کہیں بھی فٹ پاتھ پر وہ نا قابل دید مناظر نہیں تھے جو ہندوستان کے شہروں میں غالباً بلا استثناء پائے جاتے ہیں۔ سوئزرلینڈ میں سڑکوں کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہاں ریڈلائٹ پر رکنے کا مسئلہ تقریباً نہیں کے برابر ہے۔

طویل سفروں کے درمیان کہیں بھی شور سنائی نہیں دیا، نہ مشینوں کا شور اور نہ انسانوں کا شور اور نہ گاڑیوں کا شور۔ یہاں کی ایک صفت یہ نظر آئی کہ یہاں سامان ڈھونے کے لئے ٹرک نہیں۔ تمام سامان ٹرینوں کے ذریعہ ادھر سے ادھر منتقل کیا جاتا ہے، ٹرینیں اتنی عمدہ ہیں کہ وہ نہ شور کرتی ہیں اور نہ دھواں بکھیرتی ہیں۔ وہ خوبصورت کھلونے کی مانند لوہے کی سڑکوں پر خاموشی کے ساتھ دوڑتی رہتی ہیں۔ رائے من پینیکر (Raimon Panikkar) ایک عیسائی پادری ہیں۔ وہ بارسلونا کے پاس

‹ Previous page Next page › Contents of March 2002 All issues

Printed page