She has good reputation of punctuality.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۶
۱۳ ویں صدی میں پھیلا جب کہ اس علاقہ میں مسلم نواب کی حکومت تھی۔ اس بنا پر کچھ کٹر قسم کے لوگوں نے لکھا ہے کہ یہاں کے ہندو جبر کے ذریعہ مسلمان بنائے گئے۔ ایک بنگالی ہندو سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔
سوامی وویکا نند جو خود بھی ایک بنگالی ہندو تھے انہوں نے سختی کے ساتھ اس کی تردید کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ہندو سماج میں اونچ نیچ کا جو مسئلہ تھا اور ہندو زمیندار جس طرح کسانوں کا استحصال کر رہے تھے، وہ یہاں کے ہندوؤں کے لیے اسلام میں داخلے کا سبب بنا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ کہنا لغو ہے کہ بنگال کے ہندوؤں نے جبری طور پر اسلام قبول کیا : It is nonsense to say that the Hindus (of Bengal) were converted to Islam by force. بنگلہ دیش ۱۹۷۱ء کے بعد بنا۔ اس کے بعد اس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں جن کے ٹائٹل اس قسم کے تھے، مثلاً : Dismemberment of Pakistan‘ اور ‘Partition after partition’ ایک ٹائٹل یہ تھا : پاکستان کٹ ٹو سائز ‘Pakistan cut to size‘۔ یہ ٹائٹل بہت با معنیٰ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنگلہ دیش بننے سے پہلے پاکستان کا بظاہر جو بڑا سائز تھا وہ ایک مصنوعی سائز تھا۔ وہ گھٹ کر اپنے اصلی سائز پر آگیا۔
یہی حال ہر انسان کا ہے۔ ہر انسان اپنی بڑائی کے فرضی احساس میں جیتا ہے۔ ہر آدمی اپنے آپ کو اپنی حقیقی حیثیت سے زیادہ سمجھے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ صرف اللہ عزوجل پر ایمان ہے جو آدمی کے مصنوعی برتری کے احساس کو ختم کر سکتا ہے۔ مومن باللہ کی صحیح تعریف میرے نزدیک یہ ہے کہ اللہ کی برتری کے احساس نے اس کو انسان اصلی (man cut to size) بنا دیا ہو۔ یہاں کے مسلمانوں سے ملاقات کے دوران یہ اندازہ ہوا کہ بنگلہ دیش کے عوام کا کلچر مکمل طور پر پاکستان کے کلچر سے مختلف تھا۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش کے مسلمان بنگالی زبان بولتے ہیں اور پاکستانی اردو زبان بولتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے مسلمان ٹیگور کو اپنا ہیر و سمجھتے ہیں اور پاکستان کے لوگ اقبال
‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues