Al-Risala · January 2002 · page 17

She has good reputation of punctuality.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۷

کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں ۔ بنگلہ دیش کی عورتیں بندی لگاتی ہیں اور پاکستان کی عورتیں اس کو ہندو علامت سمجھتی ہیں ۔ تقریباً ہر اعتبار سے دونوں کا کلچر الگ الگ تھا۔ ایسی حالت میں پاکستان اور بنگلہ دیش کو ملا کر ایک ملک بنانا عام حالت میں بھی سخت مشکل تھا اور دونوں کے درمیان ہزار میل کی دوری کی بنا پر وہ سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔ اس قسم کے سیاسی عجوبہ کا تصور صرف کسی شاعر کے دماغ میں آسکتا تھا یا کسی انتہائی جذباتی لیڈر کے دماغ میں ۔

بنگلہ دیش کے جن لوگوں سے میری ملاقات ہوئی وہ تقریباً متفقہ طور پر یہ کہتے ہوئے ملے کہ ۱۹۷۱ کی جنگ میں پاکستان نے ہمارے اوپر بدترین ظلم کیا۔ ۳ ملین بنگالی مار ڈالے گئے ۔ ۲۰ ہزار ہندوستانی فوجی ہلاک ہو گئے ۔ معاشی نظام تباہ ہو گیا ، وغیرہ ۔ مگر پاکستان کے لوگوں سے بات کیجئے تو وہ اس سے مختلف تصویر پیش کریں گے ۔ وہ پاکستان کے کسی ظلم کا ذکر نہیں کریں گے ۔ اس کے بجائے وہ یہ بتائیں گے کہ بنگلہ دیش کے مسلمانوں نے پاکستان کے خلاف کیا کیا مخالفانہ کارروائیاں کیں اور کس طرح پاکستان کو نقصان پہنچایا۔

انسان کا یہ عام مزاج ہے کہ جب ایک گروہ کا دوسرے گروہ سے اختلاف ہو جائے تو دونوں ایک دوسرے کی صرف برائیاں بیان کرتے ہیں ، وہ ان کی اچھائیوں کا ذکر نہیں کرتے ۔ یہ برائیاں بھی یا تو فرضی ہوتی ہیں یا مبالغہ آمیز۔ اس بنا پر دونوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ ہر ایک دونوں کی برائیوں سے آخری حد تک باخبر ہوتا ہے اور ہر ایک دونوں کی اچھائیوں سے آخری حد تک بے خبر ۔

ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ماضی کے دور میں یہود میں سے کچھ لوگوں کو خنزیر بنا دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے جسم کو انسانی جسم کے بجائے خنزیر کا جسم بنا دیا گیا۔ اس سے مراد دراصل صفات ہیں ۔ یعنی کردار کا بگڑ جانا۔ صاف ستھری غذا کے بجائے گندی غذا ان کو موافق آنے لگے۔ مخلصانہ کردار کے بجائے منافقانہ کردار ان کو زیادہ محبوب ہو جائے ۔ با اصول زندگی کے بجائے مفاد پرستانہ زندگی ان کو زیادہ راس آنے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page