کائنات کا ابتدائی دھماکہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲
کی تکمیل کے لئے اس کا ایک جوڑاا (زوج) درکار ہے۔ مگر یہ جوڑ اموجودہ دنیا میں ملتا ہوا نظر نہیں آتا۔ تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ انسانی دنیا ایک مبنی بر مفاد دنیا ہے۔ یہاں سارے انسانی تعلقات مفاد کے اصول پر قائم ہیں۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک با اصول معیاری دنیا (ideal world) چاہتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں وسائل کی محدودیت اور انسان کی آزادی جیسے مختلف اسباب ہیں جو فیصلہ کن طور پر اس میں رکاوٹ ہیں کہ یہاں وہ معیاری دنیا بن سکے جو انسان اپنے فطری تقاضے کے تحت چاہتا ہے۔
اس کمی کا تقاضا ہے کہ موجودہ دنیا کا ایک جوڑا (زوج) ہو جو اس کی کمی کو پورا کر کے اس کی تکمیل کرے۔ موجودہ دنیا مبنی بر مفاد دنیا ہے۔ اب اس کا جوڑا (زوج) ایک ایسی دنیا ہے جو مبنی بر اقدار (value based) دنیا ہو۔ ایسی ایک دنیا ہی موجودہ دنیا کی کمی کی تلافی کر کے اس کی تکمیل کر سکتی ہے۔ اسی تعمیلی دنیا کا نام آخرت ہے۔ آخرت میں خدا نے جنت کی جو دنیا بنائی ہے وہ ہر قسم کی کمیوں اور محدودیتوں سے پاک ہے۔ وہ خوف اور حزن سے مکمل طور سے خالی ہے۔ وہاں وہ تمام اسباب کامل طور پر موجود ہیں جو انسان کو یہ موقع دیں کہ وہ بھر پور آسودگی (complete fulfillment) کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ موجودہ دنیا میں ہر چیز کا جوڑا ہونا اور صرف ایک چیز کا جوڑ نہ ہونا اس بات کا قرینہ ہے کہ یقینی طور پر اس کا بھی ایک جوڑا موجودہے۔ بقیہ چیزوں کے جوڑے کو موجودہ دکھائی دینے والی دنیا میں رکھ دیا گیا ہے مگر امتحان کی مصلحت کی بنا پر انسانی دنیا کے اس جوڑے کو نہ دکھائی دینے والی دنیا میں رکھا گیا ہے۔ مرنے کے بعد تمام انسان اسی اگلی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ اور وہاں وہ اس جوڑے کو عملی طور پر پا لیتے ہیں۔ ربانی تعقل کا موضوع ایک بے حد وسیع موضوع ہے۔ اس کے مختلف پہلو ہیں۔ یہاں چند مثالیں صرف موضوع کی وضاحت کے طور پر درج کی گئی ہیں۔ ربانی تعقل کے موضوع پر راقم الحروف نے اپنی دوسری کتابوں میں اس کے دیگر پہلوؤں کی وضاحت کی کوشش کی ہے۔ وہاں اس موضوع کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues