She has good reputation of punctuality.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۸
لگے ۔ انسانی خیر خواہی کے بجائے انسانی عداوت ان کا نفسیاتی مزاج بن جائے ۔ بنگلہ دیش کے لوگ پر فخر طور پر آزاد بنگلہ دیش کا لفظ بولتے ہیں ۔ ۱۹۷۱ میں پاکستان سے الگ ہونے کے لئے جو جنگ لڑی گئی اس کو یہاں کے لوگ آزادی کی عظیم جنگ (Glorious war of independence) کہتے ہیں ۔ اس باہمی جنگ میں دونوں طرف کے تقریباً ۵ملین مسلمان ہلاک ہو گئے ۔
پاکستان کے لیڈروں نے ہندوؤں سے آزادی کی جنگ لڑ کر پاکستان بنوایا۔ اور جب پاکستان بن چکا تو خود پاکستانی مسلمان ، اس کے دونوں حصوں میں باہمی اقتدار کی جنگ لڑنے میں مشغول ہو گئے ۔ موجودہ زمانہ کے اسلام پسند مسلمان ہر جگہ اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے جہاد چھیڑے ہوئے ہیں ۔ اس معاملہ میں وہ ’حبک الشی یعمی و یصم‘ کا مصداق بن چکے ہیں ۔ مذکورہ قسم کے واقعہ سے انہوں نے یہ سبق نہیں لیا کہ سیاسی تحریک ، خواہ وہ اسلام کے نام پر چلائی جائے اس کا انجام ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے وہ اغیار سے آزادی کے نام پر لڑی جاتی ہے اور جب یہ پہلا مرحلہ ختم ہوتا ہے تو وہ اقتدار کے لئے باہمی جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ اسلامک آرگنائزیشن (OIC) کی طرف سے ڈھا کہ میں ایک اسلامی یونیورسٹی قائم کی گئی ۔ یہاں اسلام کو بطور تاریخ نہیں بلکہ بطور دینیات ( تھیالوجی) پڑھایا جاتا تھا ۔ مگر جلد ہی یہ یونیورسٹی پولیٹکل اسلام کی سرگرمیوں کا مرکز بن گئی ۔ اس کے بعد جنرل ضیاء الرحمن کے زمانہ میں یہاں کے سیکولر طبقہ نے اس کو ڈھا کہ سے ہٹا کر دو سو کلومیٹر دور کشتیا میں منتقل کرا دیا۔ اس کے بعد یہاں کے اسلام پسند لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ سیکولر مسلمان اسلام دشمن ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں زیادہ غلطی یہاں کے اسلام پسند طبقہ کی ہے۔ یہ لوگ اپنے کو اسلام پسند کہتے ہیں مگر حقیقت میں وہ سیاست پسند لوگ ہیں ۔ وہ اسلام کے نام پر اپنی سیاست چلاتے ہیں ۔ اپنے اسی سیاسی مزاج کی بنا پر یہ لوگ ہر مسلم ملک میں سیاسی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ہر مسلم ملک میں صرف مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ دوسری طرف سیکولر طبقہ یہ سمجھنے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues