Al-Risala · January 2002 · page 19

She has good reputation of punctuality.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۹

لگا ہے کہ اسلام ہر ترقی کا مخالف ہے۔ مگر سیکولر طبقہ حقیقتہً کچھ مسلمانوں کی تعبیر دین کا مخالف ہے، وہ خود اسلام کا مخالف نہیں۔

سیاسی اپوزیشن کا طریقہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔ وہ صرف منفی نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کی تاریخ کے آغاز ہی میں حالات نے اس معاملہ کی ایک انتہائی مثال قائم کر دی تھی ۔ یہ امام حسین کی مثال تھی۔ امام حسین کا واقعہ گویا اس بات کی ایک انتہائی مثال ہے کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی سیاست ملت کے لئے کیا معنیٰ رکھتی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ مسلمان لیڈروں نے کبھی اس مثال سے سبق نہیں لیا۔ موجودہ زمانہ کے سیاست پسند مسلمانوں نے تو حسین کی مثال ہی کو اعلیٰ نمونہ قرار دے کر اس کی تقلید میں ساری دنیا میں سیاسی ہنگامہ آرائی کو تحریک اسلامی اور دعوت اسلامی کا نام دے دیا ہے۔

ڈھا کہ اور اسی طرح کی دوسری بڑی بڑی کانفرنسوں میں شرکت کے بعد میرا مشترک تاثر یہ ہے کہ تقریباً ہر وہ کانفرنس جس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو بلایا جاتا ہے وہ زیادہ تر ایک ہی نوعیت کی ہوتی ہے۔

یہ لوگ اس طرح بولتے ہیں جیسے کہ وہ بس اپنی انگریزی دانی کا مظاہرہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی مقرر اپنی تقریر میں کوئی واضح اور متعین پیغام دے سکے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مقصد اپنی انگریزی دانی کا مظاہرہ کرنا ہے، نہ کہ کوئی متعین بات کہنا۔ پاکستان سے چودہ آدمیوں کا وفد اس کانفرنس میں شرکت کے لیے آیا تھا۔ ایک صاحب سے میں نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان میں نیوکلیئر ہتھیاروں کی ریس چل رہی ہے۔ کیا آپ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ایٹم بم بنایا تو جا سکتا ہے مگر وہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ جاپان اس کے استعمال کا اول و آخر میدان تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں تو یہ حالت ہے کہ میاں نواز شریف کی حکومت کے زمانہ میں ہمارے پاکستانی اخباروں میں ایسے ایڈیٹوریل شائع ہوئے جن کا عنوان یہ تھا میاں صاحب بٹن دبادیں، اللہ خیر کرے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page