She has good reputation of punctuality.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۰
میں نے کہا کہ یہ تو دیوانگی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو کچھ صحابی نے کہا کہ مشرکین کے خلاف ہم کو قتال کی اجازت دیجئے، ، تو آپ نے فرمایا کہ اصبروا فانی لم اومر بالقتال ۔ میں نے کہا کہ جو لوگ یہ نہ جانیں کہ ایٹم بم ایک بوم رینگ کھیل ہے ان کو چاہئے کہ وہ چپ رہیں ، نہ کہ اس قسم کا بے معنی کلام کریں۔
۲ جون کی دوپہر کو بنگلہ دیش کے مشہور اسلام پسند لیڈر پروفیسر غلام اعظم سے ان کے مکان پر ملاقات ہوئی۔ پروفیسر غلام اعظم (پیدائش ۱۹۲۲) نے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا ہے۔ وہ طالب علمی کے زمانہ سے سیاست میں شریک ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۴۶ میں جب انڈیا میں الیکشن ہوا اور کانگریس اور مسلم لیگ کا مقابلہ ہوا تو پاکستان کے نام پر ووٹ دینے والے مسلمان سب سے زیادہ موجودہ بنگلہ دیش میں تھے۔ اس کے بعد موجودہ انڈیا میں، اور سب سے کم موجودہ پاکستان میں۔
میں نے کہا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ بعد کو تینوں حصوں کے مسلمانوں کا حال کچھ اور ہو گیا۔ بنگلہ دیش کی قوم پرست لیڈر شپ کے تحت اس ملک نے سیکولرزم کو اختیار کر لیا حتی کہ اس کا اسلامی دستور بدل دیا گیا۔ اسی طرح انڈیا کے مسلمان آج سیکولر دستور کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں بھی اکثریت سیکولر مسلمانوں کی ہے۔ ۱۹۷۲ کے بعد پاکستان کی اسلام پسند پارٹیوں نے چھ بار الیکشن میں حصہ لیا اور ہر بار وہ لوگ سیکولر پارٹیوں کے مقابلہ میں ہار گئے۔ ان اسلام پسندوں کو پاکستان کا تین فیصد سے زیادہ ووٹ نہ مل سکا۔ پروفیسر غلام اعظم خاں بنگلہ دیش کی مشہور شخصیت ہیں۔ وہ یہاں کی اسلامی تحریک کے سب سے بڑے لیڈر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ وہ ڈھا کہ میں رہتے ہیں۔ ۲ جون کی صبح کو ان کی رہائش گاہ پر ان سے گفتگو ہوئی۔ وہ بہت خوش ہوئے اور اپنی زندگی کے بہت سے تجربات بتائے۔
پروفیسر غلام اعظم صاحب مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے بہت قریب رہے ہیں۔ ان سے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues