Al-Risala · April 2002 · page

فتح مبین کا راز

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

کے تابع نہیں ہوتا۔ کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں کہ اچھے لوگ بھی اس وقت بدل گئے جب کہ انہیں کسی کڑی اخلاقی جانچ سے گزرنا پڑا ۔ ایسے موقع پر یہ بظاہر با اخلاق لوگ اچانک بے اخلاق بن جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ خدا سے ڈرنے والا انسان ہی ہر حال میں اخلاقی اصول پر قائم رہ سکتا ہے۔ خدا کے سامنے حساب دینے کا اندیشہ خود انٹرسٹ کے تصور کو بدل دیتا ہے۔ اب انسان کا انٹرسٹ یہ بن جاتا ہے کہ وہ خدا کے سامنے اچھا انسان ٹھہرے، نہ یہ کہ دنیا کی زندگی میں وہ لوگوں کو ایک اچھا انسان دکھائی دے۔

سوال

خدا کے وجود کو ماننا بظاہر ایک معقول بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن ایک سوال یہ ہے کہ اگر اس دنیا کا ایک خدا ہے تو یہاں اتنی زیادہ مصیبتیں (sufferings) کیوں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے انسان طرح طرح کی تکلیفوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ اگر خدا ہی خالق ہے اور وہ خیر مطلق کی حیثیت رکھتا ہے تو دنیا میں پائی جانے والی مصیبتوں کی توجیہ کیا ہوگی۔ (پریا ملک ، نئی دہلی) جواب یہ سوال بہت پرانا ہے۔ فلاسفہ اس کو برائی یا خرابی کا مسئلہ (problem of evil) کہتے ہیں۔ جو لوگ خدا کے وجود کو نہیں مانتے، ان کا خیال یہ ہے کہ ان کے نظریہ کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہی ہے۔ مگر یہ ایک مغالطہ ہے جو سطحی مطالعہ کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے، اس کی کوئی گہری بنیاد نہیں۔ اس سوال کو وسیع تر تناظر میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ ہماری دنیا کے دو حصے ہیں۔ ایک، انسانی دنیا جو مجموعی دنیا کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔ دوسرے، وسیع خلا میں پھیلی ہوئی کائنات، یہ بقیہ کائنات اتنی زیادہ وسیع ہے کہ انسانی دنیا کمیت کے اعتبار سے اس کے مقابلہ میں کوئی نسبت نہیں رکھتی۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ دونوں دنیا ئیں بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ وسیع کائنات کا معاملہ یہ ہے کہ وہ آخری حد تک ایک معیاری کائنات ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی خرابی یا نقص

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page