فتح مبین کا راز
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲
نہیں ۔ مثال کے طور پر سورج کے گرد زمین کی گردش کو دیکھیے۔ یہ گردش بیک وقت دو انداز سے جاری ہے۔ ایک ، خود اپنے محور(axis)پر ۔ اور دوسرے ، سورج کے گرد بیضوی شکل میں اپنے مدار(orbit)پر۔ زمین کی یہ دوطرفہ گردش اتنی زیادہ صحت کے ساتھ مسلسل ہو رہی ہے کہ کروڑوں سال کے اندر بھی اس میں کوئی فرق نہیں آتا۔ زمین گویا ایک بہت بڑا ہوائی جہاز ہے جو دوطرفہ اصول پر مسلسل گردش میں ہے۔ مگر ہم نہایت سکون کے ساتھ اس کے اوپر زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر ہوائی جہاز کی مانند اس میں شور اور جنبش ہونے لگے تو زمین کے اوپر ہمارا رہنا محال ہو جائے۔
کچھ انتہا پسند منکرین خدا نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مادی دنیا نقص سے خالی نہیں۔ مثلاً ان کے نزدیک ، زمین کی کشش غیر متناسب طور پر زیادہ ہے۔ اس کی وجہ سے چند کلو کے وزن کی چیز ہاتھ میں لے کر چلنا بھی سخت مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر یہ نقص کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ توازن کا مسئلہ ہے۔ زمین میں کشش اگر کم ہو جائے تو بے شمار نا قابل حل مسئلے پیدا ہو جائیں گے۔ مثلاً انسان کا زمین پر ہموار انداز میں چلنا ممکن نہ رہے گا، زمین پر مکانات کھڑے کرنا سخت دشوار ہو جائے گا، وغیرہ۔ مادی کائنات انسان کے مقابلہ میں نا قابل قیاس حد تک بڑی ہے۔ اس کے مقابلہ میں انسانی دنیا اتنی زیادہ چھوٹی ہے کہ بقیہ کائنات سے اس کو کوئی نسبت نہیں۔ اب جب کہ ایسا ہے کہ خرابی کا مسئلہ صرف انسان کی محدود دنیا کے ایک چھوٹے سے حصہ میں ہے، اور وسیع کائنات خرابی سے مکمل طور پر پاک ہے تو یہ ماننا ہوگا کہ خرابی کا مسئلہ عموم میں استثناء کا مسئلہ ہے۔ اور جب ایسا ہے تو استثناء کی توجیہہ عموم کی روشنی میں کی جائے گی ، نہ کہ عموم کی توجیہہ استثناء کی روشنی میں کی جانے لگے۔ اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ انسانی زندگی میں خرابی کا مسئلہ آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر پیدا ہوا ہے ، نہ کہ تخلیق میں کسی نقص کی بنا پر۔ اگر وہ تخلیق میں نقص کی بنا پر ہوتا تو اس کی مثالیں وسیع کائنات میں ہر طرف موجود ہوتیں ، نہ کہ وسیع کائنات کے صرف ایک بے حد چھوٹے حصہ میں۔
اصل یہ ہے کہ خالق نے اپنے تخلیقی نقشہ کے مطابق ، وسیع کائنات کو جبری نظام
‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues