Al-Risala · April 2002 · page

فتح مبین کا راز

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

(determinism) کے تحت براہِ راست اپنے کنٹرول میں رکھا ہے۔ اس لئے وہ کسی تبدیلی کے بغیر ایک مقرر حالت پر قائم رہتی ہے۔ اس کے برعکس انسان کو امتحان کی مصلحت کے تحت آزادی دی گئی ہے۔ اسی فرق نے مذکورہ بالا مسئلہ پیدا کیا ہے۔ انسان اپنی آزادی کا بار بار غلط استعمال کرتا ہے۔ اسی غلط استعمال نے وہ مسائل پیدا کئے ہیں جن کو خرابی کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ انسان اگر اپنی آزادی کا غلط استعمال نہ کرے تو انسانی دنیا بھی اسی طرح بے نقص دنیا بن جائے گی جس طرح بقیہ کائنات بے نقص دنیا بنی ہوئی ہے۔

سوال

ایک صاحب نے لاہور کے ماہنامہ اشراق کے شمارہ ستمبر ۲۰۰۱ میں شائع شدہ مضمون (مولانا وحید الدین کا اسلوب تنقید) کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس شائع شدہ مضمون کا ایک حصہ یہ ہے: " آج اس خطے کا کون سا مسلمان ایسا ہے جو شاہ ولی اللہ، شیخ احمد سرہندی، سید احمد شہید، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا شبلی نعمانی، علامہ محمد اقبال، مولانا مودودی، ٹیپو سلطان، محمد علی جناح جیسی تمام شخصیات یا ان میں سے بہت سے لوگوں سے تعلق خاطر نہیں رکھتا یا ان کی فکر اور اخلاص کا مداح نہیں ہے؟ جب آپ ان سب پر ایسے اسلوب میں تنقید کریں گے جن سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچے تو پھر یہ لوگ آپ کے مخاطب کیسے بن سکتے ہیں۔

یہ واقعہ ہے کہ مولانا وحید الدین نے اپنے تنقیدی اسلوب کی بنا پر مسلمانوں کے قریبأتمام قابلِ ذکر طبقات میں اپنے لیے ایک ناپسندیدہ فضا پیدا کر دی ہے۔ چنانچہ ان کے قلم سے نکلنے والی بہت سی مثبت اور قابلِ قدر باتیں بھی ان حلقوں میں نہیں پہنچ پاتیں اور یوں خود مولانا وحید الدین کا اپنا اسلوب تحریر ان کی دعوت کے فروغ کے راستے میں رکاوٹ بن گیا ہے۔ اگر ہم مولانا وحید الدین کی ایسی تحریروں کے اقتباسات نقل کریں تو یہ مضمون غیر معمولی طور پر طویل ہو جائے گا...... صرف ایک اقتباس یہاں درج کیا جا رہا ہے جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کا قلم زورِ تنقید کے کیا نمونے پیش کرتا ہے ۔ حضرت عبد اللہ ابن زبیر نے یزید بن معاویہ کے عہد میں جو طرزِ عمل اختیار کیا، وہ مولانا کے تصور

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page