فتح مبین کا راز
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲
ایک قدیم خط محترمہ صدیقہ آپا السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط ملا۔ میری لڑکی بنت الاسلام کا انتقال میری زندگی کا پہلا واقعہ ہے جب کہ میں نے موت کے منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سانس اکھڑنا، آنکھ پتھرا جانا اور عالم نزع کی ہچکیاں یہ سب میرے لئے ابھی تک صرف الفاظ تھے جو میں نے کتابوں میں پڑھے تھے یا زبانوں سے سنے تھے۔ مگر اس مرتبہ بنت الاسلام کی موت میں ان الفاظ کو میں نے حقیقت بنتے ہوئے دیکھا۔ جب آخر وقت ہوا تو پہلے اس کی آنکھیں اوپر کو چڑھ گئیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک شخص آخرت کی طرف جاتے ہوئے پیچھے مڑ کر دنیا کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اکھڑی اکھڑی سانسیں آنے لگیں جو اس بات کی علامت تھی کہ جسم کا نظام اپنی صحیح حالت میں باقی نہیں رہا۔ اسی کے ساتھ اس کا بولنا بند ہوگیا۔ آخر میں ہچکی کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی چراغ بجھنے کے وقت بھڑکنے لگتا ہے۔ یہ کیفیات چند گھنٹے تک باقی رہیں۔ بالاخر 19 ستمبر کو صبح آٹھ بجے ڈاکٹر کے کمرے میں اس کا انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جس وقت میرے ساتھی محمد عبدالحئی صاحب اس کو کپڑے میں لپیٹ کر ڈاکٹر کے کمرے سے نکلے اور ہم رکشے میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوئے تو مجھے ایسا محسوس ہوا گویا دنیا کی بساط لپیٹ دی گئی ہے اور فرشتے تمام انسانی روحوں کو لے کر خدا کے دربار کی طرف چلے جارہے ہیں۔ میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے اور میں نے کہا خدا یا، میرے لئے بھی یہی دن آنے والا ہے۔ اس دن سے پہلے تو مجھے بخش دے ورنہ میرا کوئی انجام نہیں ہوسکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر نصیحت لینا چاہے تو صرف موت کا واقعہ اس کی آنکھ کھولنے کے لئے کافی ہے۔ موت بچے کو بھی آتی ہے اور بڑے کو بھی۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ موت کا کوئی وقت نہیں ۔ وہ عمر کے کسی بھی حصے میں آسکتی ہے۔ روس کے وزیراعظم سٹالن اور امریکہ کے وزیر خارجہ ڈلیز بیمار ہو کر مرے اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی بیوی ایک سفر میں رات کو سوئی تو نیند ہی میں اس کا خاتمہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues