Al-Risala · April 2002 · page

فتح مبین کا راز

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

ہو گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ موت کبھی خبر دار کر کے آتی ہے اور کبھی اچانک آ جاتی ہے۔ اس کی زد سے نہ امیر بچ سکتا ہے اور نہ غریب اور نہ کسی قسم کا علاج اسے روک سکتا ہے۔ یہ حقیقت اگر آدمی کے سامنے ہو تو دنیا کے تمام ہنگامے اسے بے معنی نظر آنے لگتے ہیں۔ دنیا میں عزت اور خوش حالی حاصل کرنے کے لئے انسانوں کی تمام دوڑ بالکل احمقانہ حرکت معلوم ہوتی ہے۔ کسی مسافر کی ٹرین سامنے کھڑی ہو اور وہ اس میں سوار ہونے کے بجائے پلیٹ فارم کی بینچ پر جگہ حاصل کرنے کے لئے کش مکش شروع کردے تو ہر آدمی اس کو بے وقوف کہے گا۔ مگر آج ساری دنیا اسی نادانی میں مبتلا ہے۔ ہر روز لاکھوں آدمی مر کر ہم کو یہ بتاتے ہیں کہ تمہاری زندگی آخرت کا ایک سفر ہے اس کے لئے تیاری کرلو۔ مگر انسان دنیا کی دلچسپیوں میں اور دنیا میں عزت ڈھونڈنے میں اتنا گم ہے، وہ دنیوی مسائل میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ اسے کچھ احساس نہیں رہتا۔ اسی حال میں آدمی زندگی گزارتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اسے موت آتی ہے تو اچانک اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو ایک گڑھے میں لا کر گرا دیا ہے۔ ، رام پور ، ۳۰ ستمبر ۱۹۶۱ء ٹاپ چپ چپی سیت ہے ؟

دعاگو وحید الدین احقر ارم مسٹر حسن احمد خاں ( مقیم بمبئی ) کر یہ یارہ ماہ کا ذریعہ حاصل ہوا۔

؀ اس و ع ت ( ب ہ ) م ک ا ن س ی ن ء ا م د ی ہ ( ہ و ی ہ )

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page