She has good reputation of punctuality.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۱
میں نے پوچھا کہ مولانا مودودی کی کوئی خاص صفت بتائیے ۔ انہوں نے ایک بات یہ بتائی کہ مولانا مودودی ہمیشہ مجلس شوریٰ میں یہ کوشش کرتے تھے کہ مجلس شوریٰ میں ہر بات اتفاق رائے کے ساتھ طے کی جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ان امتی لا تجتمع علی ضلالۃ ( ابن ماجہ ، الفتن ) یعنی میری امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی ۔ چنانچہ وہ کہتے تھے کہ مجلس شوریٰ میں اتفاق رائے سے کسی بات کا طے ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ حق ہے ۔ میں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے مگر اس کی یہ تشریح بالکل غلط ہے ۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ کسی جماعت کے افراد کسی بات پر اتفاق رائے کر لیں تو اس سے یہ ثابت ہوگا کہ یہ بات حق ہے ۔ اس کے بجائے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدی پر ایسا وقت کبھی نہیں آئے گا جب کہ امت کے سارے افراد گمراہی پر متحد ہو جائیں اور کوئی شخص حق کا اعلان کرنے والا باقی نہ رہے ۔
پروفیسر غلام اعظم صاحب نے کہا کہ میں تھنکر مودودی کے مقابلہ میں آرگنائزر مودودی کو زیادہ بڑا سمجھتا ہوں ۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں واقعات کی گواہی آپ کی تائید نہیں کرتی ۔ میں نے کہا کہ اس پہلو سے مولانا مودودی کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ ان کے تمام بڑے بڑے رفقاء نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ مثلاً مولانا ابوالحسن علی ندوی، مولانا منظور نعمانی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا عبد الغفار حسن، مولانا عبد الرحيم اشرف ، ڈاکٹر اسرار احمد ، مولانا سلطان احمد، مولانا کوثر نیازی، وغیرہ۔ پھر کیسے آپ یہ کہتے ہیں کہ وہ ایک کامیاب آرگنائزر تھے ۔ میں نے کہا کہ کامیاب آرگنائزر وہ ہے جو اپنے رفقاء کو اختلاف کے باوجود اپنے ساتھ متحد رکھ سکے۔ جیسا کہ ہندوستان میں گاندھی نے کیا۔ پروفیسر غلام اعظم صاحب میرے اس سوال کا کوئی واضح جواب نہ دے سکے۔
۲ جون کو جب کہ میں ڈھا کہ میں تھا، نیپال سے اندوہناک قتل کی خبر آئی ۔ شاہ نیپال کے بیشتر خاندان کو اچانک محل کے اندر قتل کر دیا گیا ۔ ڈھا کہ کے انگریزی اخبار
‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues