Al-Risala · April 2002 · page

فتح مبین کا راز

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

ایک خط

برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۱۲ نومبر ۲۰۰۱ء کو ٹیلی فون پر آپ سے گفتگو ہوئی۔ ۱۲ نومبر ہی کو ہمدرد یونیورسٹی (نئی دہلی) میں ایک بڑا اجتماع ہوا۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے۔ یہ جلسہ صرف میری تقریر کے لئے ہوا تھا۔ اس میں بولنے کے لئے مجھ کو جو عنوان دیا گیا تھا وہ یہ تھا: جہاد کا تصورِ اسلام میں۔ حاضرین کی اکثریت نے میری تقریر کو بہت پسند کیا۔

جلسہ میں کچھ مسلم نو جوان بھی تھے جو اپنے آپ کو اسلام پسند کہتے ہیں۔ ان مسلم نو جوانوں نے تقریر کے بعد بہت سے سوالات کئے، تقریباً پچیس سوالات۔ یہ سوالات زیادہ تر مخالفانہ انداز میں تھے۔ میں نے اللہ کی توفیق سے ہر سوال کا واضح اور مدلّل جواب دیا۔ آخر میں، بظاہر سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت، ایک نو جوان نے نہایت جوش کے ساتھ یہ سوال کیا۔ ” آپ کہتے ہیں کہ جہاد کے لئے تیاری ضروری ہے۔ یہ بتائیے کہ غزوۂ بدر میں کون سی تیاری تھی، جب کہ ایک ہزار مشرکین کا مقابلہ صرف تین سو تیرہ مسلمانوں نے کیا اور فتح حاصل کی“۔ اس سوال کے فوراً بعد مذکورہ نو جوانوں نے فاتحانہ انداز میں پرُ شور تالیاں بجائیں۔ شاید ان کا خیال تھا کہ یہ سوال ایک ایٹم بم ہے اور میرے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہوگا۔

میں نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا کہ غزوۂ بدر کی تیاری تو اتنی بڑی تھی کہ اس کو سپر تیاری کہا جاسکتا ہے۔ آپ قرآن میں سورہ الانفال کا پہلا رکوع پڑھیے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جب یہ اطلاع ملی کہ مسلح مشرکین ایک ہزار کی تعداد میں مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے آرہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مقابلہ کے لئے نکلنے کا ارادہ کیا۔ مگر آپ کے اصحاب میں ایک فریق کا وہ حال تھا جس کو قرآن میں کارھون سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ یہ بشارت دی کہ تم لوگ آگے بڑھو، ہم ایک ہزار فرشتوں کے ذریعہ تمہاری مدد کریں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page