Al-Risala · April 2002 · page

فتح مبین کا راز

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

اس خدائی بشارت کے بعد لوگ آگے بڑھے اور بدر کے مقام پر اپنے مخالفوں کو شکست دی۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ مسلمان بدر سے کامیاب ہو کر مدینہ واپس ہوئے تو شہر کے لوگوں نے ان کو مبارک باد دی۔ اس کے جواب میں ایک بدری صحابی نے کہا، تم ہمیں کس چیز کی مبارک باد دیتے ہو۔ خدا کی قسم، ہم جن سے ملے وہ تو گویا کہ قربانی کے بندھے ہوئے اونٹ تھے جن کو ہم نے ذبح کر دیا۔ (سیرت ابن ہشام، الجز ء الثانی، صفحه ۲۸۶)

میں نے کہا کہ آج جو لوگ تیاری کے بغیر جہاد کے لئے بدر کا حوالہ دیتے ہیں، کیا ان کے پاس اس قسم کی کوئی بشارت خدا کی طرف سے آئی ہے۔ اگر آپ کو ایسی خدائی بشارت حاصل ہو تو بے شک آپ جہاد کیجئے ورنہ اپنے خود ساختہ جہاد کے لئے ہر گز بدر کا حوالہ نہ دیجئے۔ عجیب بات ہے کہ ہماری قوم ڈیڑھ سو سال سے اسی غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ ۱۸۵۷ میں ہندوستان کے جن علماء نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد کیا اس وقت ایک عالم نے ان سے کہا تھا کہ آپ کے پاس کوئی تیاری نہیں ہے۔ ایسی حالت میں آپ کا طاقتور انگریز سے مسلح ٹکراؤ کرنا جائز نہیں۔ ان لوگوں نے کہا کہ کیا ہمارے پاس اتنی بھی تیاری نہیں جتنی غزوہ بدر کے موقع پر اس وقت کے اہل ایمان کو تھی۔ اسی غلط تصور کی بنا پر وہ لوگ انگریزوں سے لڑ گئے۔ اور زبردست نقصان اٹھا کر شکست کھائی۔ علمی اعتبار سے اس کا تجزیہ کیجئے تو یہ غلط تقابل (wrong comparison) کا ایک کیس ہے۔ بدر کے واقعہ کو یہ لوگ ایک ہزار اور ۳۱۳ کے درمیان ٹکراؤ کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ خدائی فوج اور انسانی فوج کے درمیان ٹکراؤ کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ ان کے اندر صحتِ فکر (right thinking) کا کامل فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ غلطی کو وہ ڈیڑھ سو سال سے قولاً اور عملاً دہرا رہے ہیں۔ ابھی تک وہ شعوری طور پر یہ معلوم نہ کر سکے کہ اس مدت میں بار بار پیش آنے والے ناکام جہاد کا سبب کیا ہے۔ وہ ہے جہاد کو جاننا، مگر فکر جہاد سے مکمل طور پر بے خبر رہنا۔ ۱۴ نومبر ۲۰۰۱ء دعا گو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page