There is no second chance.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲
اٹل قانون ہے جس کو اختیار کئے بغیر چارہ نہیں۔ صبر کو اگر آپ اصول کے طور پر اختیار نہ کریں تو آپ کو منافقانہ طور پر اسے اختیار کرنا پڑے گا، کیوں کہ صبر کے بغیر آپ اس دنیا میں جی نہیں سکتے۔ آنے والوں میں اس علاقہ کے S.H.O مسٹر ڈنڈوتیا (9826088602) بھی تھے۔ ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگوں کو عام طور پر پولیس سے شکایت ہوتی ہے، مگر مجھے پولیس سے کوئی شکایت نہیں۔ ان شکایتوں کو غلط فہمی کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ میرے نزدیک پولیس کے لوگ بھی انسان ہیں ۔ ان کو بھی خدا نے پیدا کیا ہے۔ وہی انسانی فطرت ان کے اندر بھی ہے جو دوسرے انسانوں کے اندر ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے اپنا ایک سبق آموز تجربہ بتایا۔
میں نے کہا کہ دہلی میں ایک بار ایک بڑے پولیس افسر مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ وہ نہایت احترام کے ساتھ مجھ سے ملے، اور اپنا ٹیلی فون نمبر دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی میری کوئی ضرورت ہو تو مجھے اس نمبر پر یاد کر لیں ۔ اس ملاقات کے کچھ دنوں بعد میں نے اخلاقی طور پر انہیں ایک ٹیلی فون کیا۔ جب وہ لائن پر آئے تو خلاف عادت میری زبان سے یہ جملہ نکل گیا: میں آپ کا فرینڈ بول رہا ہوں۔ یہ الفاظ سنتے ہی وہ نہایت سخت اور درشت الفاظ میں بولنے لگے۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ حیرانی کے ساتھ ریسیور رکھ دیا۔
میرا مزاج اللہ کے فضل سے یہ ہے کہ انتہائی ناخوشگوار تجربہ بھی میری مثبت سوچ کو درہم برہم نہیں کرتا۔ چنانچہ میں نے غیر متاثر ذہن کے تحت اس عجیب واقعہ پر سوچنا شروع کیا۔ جلد ہی میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ پولیس افسر کے مذکورہ غیر متوقع ردعمل کا غالباً سبب یہ ہے کہ انہیں مجرم قسم کے لوگ ٹیلی فون کرتے ہوں گے اور اپنے آپ کو فرینڈ بتا کر انہیں اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہوں گے۔ اس نتیجہ پر پہنچنے کے بعد میں نے انہیں دوبارہ ٹیلی فون کیا۔ اب میں نے فوراً ان کو اپنا نام بتا دیا۔ میرا نام سنتے ہی وہ نہایت احترام کے ساتھ بولنے لگے۔ انہوں نے ادب کے انداز میں کہا: مولانا صاحب، میں آپ کی کیا سیوا کر سکتا ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اسی طرح ایک انسان ہے جس طرح کوئی دوسرا شخص ہو سکتا ہے۔