She has good reputation of punctuality.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۲
The Independent کی دوسری سرخی یہ تھی:
Palace massacre in Nepal, Crown Prince kills King Birendra, Queen Aishwarya, 11 family members. اس حادثہ میں شاہ بریندرا اور کوین ایشوریہ سمیت ۱۳ آدمی کو اچانک گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ حادثہ غالباً گدی کے جھگڑے کے نتیجہ میں پیش آیا۔ جب سے دنیا میں بادشاہت قائم ہے ہمیشہ گدی کے نام پر قتل و تشدد کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ سیاسی قتل کے اس سلسلہ کو صرف جدید جمہوریت نے ختم کیا۔ جمہوری نظام نے اس کو ممکن بنایا سیاسی گدی الیکشن کے ذریعہ ایک سے دوسرے کو منتقل ہو جائے، جب کہ اس سے پہلے وہ صرف موت یا قتل کے ذریعہ ہی منتقل ہو سکتی تھی۔ مثال کے طور پر اورنگ زیب مغل گدی پر قبضہ کرنا چاہتا تھا مگر اس سیاسی تبدیلی کے لیے اس کے پاس کوئی پر امن طریقہ نہ تھا، چنانچہ اس نے تلوار کی طاقت کے ذریعہ اس مقصد کو حاصل کیا۔
ڈھاکہ کہ ائر پورٹ پر ایک ہفتہ وار نیوز لیٹر (Holiday Aviator) پڑھنے کو ملا۔ یہ ۲۵ مئی ۲۰۰۱ کا شمارہ تھا۔ اس کی ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ دبئی اور حیدر آباد کے درمیان إمارات (Emirates) کی طرف سے ایک براہ راست نئی ہوائی سروس شروع کی گئی ہے۔ یہ سروس حیدر آباد اور دبئی کے درمیان نان اسٹاپ سروس ہوگی اور وہ ہفتہ میں تین بار مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائے گی۔ میں نے اس خبر کو پڑھا تو میں نے سوچا کہ جس نوابی دور کے خاتمہ پر مسلمان عرصہ تک فریاد کرتے رہے اس دور میں صرف سالانہ بحری سفر ممکن تھا اور وہ بھی حج کی عبادت کے لئے۔ اب اسی حیدر آباد میں ہفتہ میں تین بار عالمی اقتصادی سفر ممکن ہو گیا ہے۔ یہ اہل حیدر آباد کے لئے ایک عظیم نعمت ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ان کے شکایتی مزاج کی بنا پر شکر کا جذبہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ چنانچہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کو جدید تبدیلیوں کی خبر ہی نہیں۔ اور ان مفید تبدیلیوں پر سینہ میں شکر کا چشمہ جاری ہو نا تو اتنا نایاب ہے کہ آج شاید کوئی بھی مسلمان نہیں جو اس عظیم روحانی کیفیت کا تجربہ کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues