Al-Risala · May 2002 · page

There is no second chance.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲

آپ ہر انسان کو انسان سمجھیے ۔ ہر انسان کے ساتھ انسان والا معاملہ کیجیے ۔ اور پھر آپ کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی ۔

۷ اکتوبر کی شام کو یہاں اچاریہ نریندر دیو لائبریری کے ہال میں ایک جلسہ ہوا۔ اس میں شہر کے تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے ۔ حاضرین کی تعداد ناظمین جلسہ کی توقع سے زیادہ تھی ۔ چنانچہ موجود کرسیاں سب بھر گئیں ، اور درمیان میں مزید کرسیوں کا انتظام کرنا پڑا ۔

یہ جلسہ اسکول ٹوڈے میگزین کی طرف سے کیا گیا تھا۔ تقریر کا موضوع تھا : مذہب اور تعلیم ۔ میں نے تقریباً ایک گھنٹہ کی تقریر میں موضوع کی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ تعلیم کو عام طور پر جاب حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ تعلیم کا ثانوی فائدہ ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد انسان کو باشعور بنانا ہے۔ اسی طرح مذہب محض رسمی اعمال کا نام نہیں، مذہب دراصل زندگی کی سائنس ہے۔ اس طرح مذہب اور تعلیم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تعلیم آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مذہب کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھ سکے ، اور مذہب آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ سچی اسپرٹ کے ساتھ تعلیم یافتہ بنے۔

اخیر میں سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ نے تعلیم کی اہمیت اجاگر کی ہے ، لیکن اگر تعلیم کا بھگوا کرن ہو تو آپ نئی نسل کو کیا مشورہ دیں گے ۔ میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر‘‘ کی بنیاد پر کوئی رائے نہیں دی جاتی ۔ ابھی تو ہمارے ملک میں بھگوا تعلیم رائج نہیں ہوئی ، اور میرے اندازے کے مطابق ، وہ کبھی رائج ہونے والی نہیں ۔ لیکن بالفرض اگر کبھی عملاً ایسا ہو تو اس وقت اس کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ ابھی یہ سوال قبل از وقت ہے۔ انڈیا میں اصل مسئلہ امریکی کَرن کا ہے، نہ کہ بھگوا کرن کا ۔

ایک اور سوال یہ تھا کہ ورتمان میں راج نیتی میں دھرم کا جو مشرن کر کے راج نیتی کو دوشت کیا جا رہا ہے اس کے بارے میں کوئی اپائے بتائیے۔ اس کے جواب میں میں نے کہا کہ یہ بات غلط ہے کہ سیاست میں مذہب کو شامل کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے اس کا جو نتیجہ نکلتا وہ یہ تھا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page