Al-Risala · May 2002 · page

There is no second chance.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲

بھرشٹا چار اس ملک سے ختم ہو جاتا جو چیز ہو رہی ہے وہ مذہب کو سیاست میں شامل کرنا نہیں ہے، بلکہ سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کو استعمال کرنا ہے۔

جناب محمد انور جمال صاحب سے ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ کسی سوال کا جواب دیتے ہوئے صرف یہ نہیں دیکھنا ہے کہ آپ کے نزدیک اس کا جواب کیا ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ سننے والے پر اس کا اثر کیا پڑے گا۔ میں نے اس معاملہ کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہجرت کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر جب مکہ سے نکل کر مدینہ کے لئے روانہ ہوئے تو مشرکین نے اپنے آدمی دوڑائے کہ وہ آپ کو پکڑیں۔ اس سلسلہ میں ایک آدمی آپ دونوں کے قریب آگیا۔ وہ غالباً دونوں میں سے کسی کو پہچانتا نہ تھا۔ اس نے حضرت ابو بکر سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کون ہے۔ اس سوال کا صحیح جواب یہ تھا کہ محمد بن عبد اللہ۔ مگر حضرت ابو بکر نے یہ جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ رجل یہدینی (ایک شخص جو مجھ کو راستہ دکھاتا ہے)۔ ان الفاظ کو سن کر سائل نے یہ سمجھا کہ یہ راستہ دکھانے والا کوئی گائیڈ ہے اور وہ واپس چلا گیا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ کلام کرتے ہوئے صرف یہ نہیں دیکھنا ہے کہ آپ کے اپنے نزدیک درست بات کیا ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ سننے والے پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ ۳ نومبر کی شام کو آچاریہ نریندر دیو لائبریری کے ہال میں جو پروگرام تھا، اس میں میرے علاوہ ایک ممتاز ہندو نے تقریر کی جو اعلیٰ حکومتی عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں اپنی ایک رائے بار بار پیش کر چکا ہوں لیکن اسے قبول نہیں کیا جاتا۔ اس کو میں اس مجمع میں پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ مسائل کا حل یہ ہے کہ لوگ ''بہودھرمی‘‘ بن جائیں، یعنی بیک وقت کئی مذہب کو ماننے والے۔ وہ ایک ہی وقت میں کئی مذاہب کو تسلیم کریں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میرا ذاتی مسلک یہی ہے۔ میں نے مسجد میں نماز بھی پڑھی، گرجا گھر بھی جاتا ہوں اور مندر بھی۔ انہوں نے اپنے اس مسلک کو اپنی تقریر میں کھلے لفظوں میں بیان کیا۔

جلسہ کے حاضرین میں بیشتر تعداد مسلمانوں کی تھی۔ ایک مقامی بزرگ نے بتایا کہ جو مسلمان

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page