Al-Risala · May 2002 · page

There is no second chance.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲

اس جلسہ میں شریک تھے وہ بھوپال کے وہ لوگ تھے جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سب سے زیادہ دینی حمیت رکھنے والے لوگ ہیں۔ ان کی تاریخ یہ رہی ہے کہ وہ دین کے معاملہ میں کسی مخالفانہ بات کو بالکل برداشت نہیں کرتے بلکہ جراتمندی کے ساتھ فوراً اس کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مگر آج کے اس جلسہ میں مذکورہ ہندو مقرر کی بظاہر’’ اشتعال انگیز بات‘‘ کو انہوں نے اس طرح اعتدال کے ساتھ سنا جیسے کہ وہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ حتیٰ کہ مذکورہ ہندو مقرر کی بات پر صرف ایک شخص نے سوال کیا اور وہ ایک ہندو نوجوان تھا۔

یہ میرے نزدیک مسلمانوں میں ایک خوشگوار تبدیلی کی علامت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کے مسلمانوں میں وہ صحت مند تبدیلی آ چکی ہے جو قانون فطرت کے تحت موجودہ دنیا میں ترقی کے لئے ضروری ہے۔ یعنی ناخوشگوار بات کو بھی معتدل انداز میں سننا، خلاف مزاج معاملہ میں بھی ضبط و تحمل کا رویہ اختیار کرنا۔

مولانا محمد صدیق قاسمی سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ اکثر لوگوں کی نا کامی کا سبب صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ عدم قناعت ہے۔ زندگی میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات کے اعتبار سے ممکن دائرہ میں اپنے عمل کا آغاز کرے، اور آج جو کچھ اس کو مل رہا ہے اس پر راضی رہتے ہوئے مزید کے لئے مستقبل کا انتظار کرے۔ مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس قناعت کو اختیار نہیں کرتے۔ مستقبل میں ملنے والی چیز کو حال میں پانے کے لئے وہ ایک ایسی چھلانگ لگا دیتے ہیں جو آخرکار انہیں مایوسی اور نا کامی کے سوا کہیں اور پہنچانے والی نہیں۔

ہندی روزنامہ دینک بھاسکر (۴ نومبر ۲۰۰۱ء) میں کل شام کی تقریر کی رپورٹنگ ہوئی۔ یہ رپورٹ اطمینان بخش تھی۔ وہ تقریباً بالکل صحیح تھی جو عام اخباری مزاج کے خلاف ہے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ کوئی اخبار خواہ وہ اردو کا ہو یا ہندی کا یا انگریزی کا، اپنی پالیسی کے اعتبار سے متعصب یا غیر متعصب نہیں ہوتا۔ اصل چیز جو اخباروں کی رپورٹنگ میں فرق پیدا کرتی ہے وہ اس کا اسٹاف ہے۔ اگر اخبار میں زیادہ تعلیم یافتہ لوگ ہوں تو اس کی رپورٹنگ درست ہوگی اور اگر کم تعلیم یافتہ لوگ ہوں تو

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page