There is no second chance.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲
اس کی رپورٹنگ ناقص ہو جائے گی ۔
مسٹر راجیند رسنگھ بھوپال کے ایک صنعتکار ہیں۔ انہوں نے بھوپال میں زندگی کا آغاز اس طرح کیا کہ انہوں نے بھوپال کی سڑکوں پر تھری وہی لر چلایا تاکہ وہ اپنی تعلیم کے اخراجات حاصل کرسکیں۔ اس طرح انہوں نے ذاتی محنت سے سول انجینئرنگ کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے وہ موجودہ ترقی تک پہنچے۔ انہوں نے اپنی بزنس کا اصول یہ بتایا: دوسروں سے کم قیمت مگر دوسروں سے بہتر کوالٹی۔
مسٹر راجیند رسنگھ نے ایک ملاقات میں کہا کہ اگر آج کے مسلمانوں کا ذہنی کینواس (canvas) بڑا ہو جائے تو کوئی ان کی ترقی کو روک نہیں سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کل کے مسلمانوں کا مزاج یہ ہے کہ تھوڑی معلومات کے باوجود وہ اسلام کی بات کرتے ہوئے مدعیانہ انداز میں بولنے لگتے ہیں۔ وہ اپنے خیال میں اتنا گم رہتے ہیں کہ ان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ سننے والے پر ان کے اس انداز کا الٹا اثر پڑے گا۔
میرے نزدیک یہ بات بالکل درست ہے۔ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں کے اندر آفاقی ذہن بناتا ہے۔ مگر آج کل کے مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر تنگ نظری کا شکار ہو گئے ہیں۔ وہ خود اپنی بنائی ہوئی دنیا میں جیتے ہیں۔ انہیں اپنے سے باہر کی دنیا کی کوئی خبر نہیں۔ مسلمانوں کا یہی مزاج ، موجودہ زمانہ میں اسلام کی بدنامی کا سبب ہے، نہ کہ اسلام کی اصولی تعلیمات۔ اسلام کے اشاعتی سیلاب کو جس چیز نے روک دیا ہے وہ مسلمانوں کا یہی غیر آفاقی مزاج ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تحریروں اور تقریروں سے ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ صرف ان کی اپنی کمیونٹی ہی ان کا کُنسرن (concern) ہے۔ وسیع تر انسانیت ان کا کُنسرن ہی نہیں۔ مولانا محمد مسیح عالم جامعی بھوپال کی ایک مسجد کے امام ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے ایک مضمون کا حوالہ دیا جس میں میری طرف یہ رائے منسوب کی گئی ہے کہ مسلمان بابری مسجد سے دستبردار ہو جائیں ۔ میں نے کہا کہ استغفر اللہ، میں نے کبھی بھی مسجد سے دستبرداری کی بات نہیں کی۔ اور نہ