There is no second chance.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲
ہوش و حواس کے ساتھ میں ایسا کہہ سکتا ہوں۔ میں نے جو بات کہی تھی وہ مسلمانوں کے طریقہ کار سے دستبرداری کی ہے، نہ کہ مسجد سے دستبرداری کی۔ میں نے ۶ دسمبر سے پہلے بھی یہی کہا تھا اور اب بھی یہی کہتا ہوں کہ مسلمان بابری مسجد کے مسئلہ کو پرامن دائرہ میں حل کریں۔ وہ اس مسئلہ پر مظاہرہ کا انداز اختیار نہ کریں جو فریق ثانی میں اشتعال پیدا کر کے مسئلہ کو مزید پے چیدہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ مولا نا محمد مسیح عالم نے میری بات کو سن کر کہا کہ ہندوستان میں جمہوریت کا نظام ہے اور جب تک جمہوری طریقہ پر اس کا مظاہرہ نہ کیا جائے، ایوان بالا تک وہ بات نہیں پہنچتی۔ اس لئے موجودہ زمانہ میں مظاہروں کا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ میں نے کہا کہ جو لوگ مظاہرہ کے طریقہ کو درست سمجھتے ہیں وہ اس پر عمل کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ مگر کسی کو بھی اس کی آزادی نہیں کہ وہ میرے اوپر جھوٹا الزام لگائے۔ یعنی میں طریقہ کار کو چھوڑنے کی بات کروں اور وہ یہ مشہور کرے کہ میں خود مسجد کو چھوڑنے کی بات کر رہا ہوں۔
ایک صاحب ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ ان کا تعارف کراتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ مولا نا نور الہدیٰ قاسمی ہیں۔ وہ جامعہ اسلامیہ عربیہ کے استاذ ہیں اور آپ کے ناقد بھی ہیں۔ میں نے کہا کہ عربی مقولہ ہے کہ: ”من هو ناصحك خير لك ممن هو مادحك‘‘ جو شخص تم کو نصیحت کرنے والا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہاری تعریف کرنے والا ہے۔ میں نے کہا کہ تنقید اور تنقیص میں فرق ہے۔ تنقید ایک صحت مند عمل ہے۔ اس کے برعکس تنقیص ایک گناہ ہے۔ تنقید نام ہے علمی تجزیہ کا، جب کہ تنقیص عیب جوئی اور الزام تراشی کا نام ہے۔
مولا نا نور الہدیٰ صاحب نے فرمایا کہ آپ کی تحریروں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ جہاد بمعنی قتال کو ضروری نہیں سمجھتے، حالانکہ جہاد مسلمانوں کے لئے فرض ہے۔ خاص طور پر افغانستان جیسے ملکوں میں۔
میں نے کہا کہ جہاد بلاشبہ ایک شرعی حکم ہے۔ مگر جہاد فرض مطلق نہیں۔ تمام علماء کے نزدیک جہاد بمعنی قتال حسن لغیر ہ ہے، وہ حسن لذاتہ نہیں ۔ جہاد کا عمل شروع کرنے سے پہلے یہ دیکھا جائے گا