There is no second chance.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲
کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر جہاد کے عمل کا نتیجہ الٹی صورت میں نکلے تو حکماً فرض ہونے کے باوجود عملاً جہاد نہیں کیا جائے گا۔
مثال کے طور پر مکی دور میں مسلمانوں پر جو حالات تھے وہ افغانستان سے بھی زیادہ سخت تھے۔ چنانچہ جب بیعت عقبہ ثانیہ ہوئی تو اس وقت کے مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ سے قریش کے خلاف جنگ کی اجازت طلب کی۔ مگر آپ نے اس کی اجازت نہ دی اور فرمایا: انی لم أومر بالقتال۔ اسلام میں جہاد ایک اعلیٰ عمل ہے۔ مگر جہاد برائے مقصد ہے، جہاد برائے جہاد نہیں۔ مثال کے طور پر افغانستان میں جب روسیوں سے جنگ ختم ہوگئی اور روسی فوج افغانستان سے واپس چلی گئی تو اس کے بعد افغانی مسلمانوں کو وہی کرنا چاہئے تھا جو دورِ اول کے مسلمانوں نے مدینہ میں کیا۔ یعنی ایک فریق کو سیاسی عہدہ دے کر دوسرے فریق کا پیچھے ہٹ جانا۔ اس وقت مدینہ میں دو گروہ تھے ـــــــــ مہاجرین اور انصار۔ ابتداء دونوں گروہ خلافت کے دعوے دار تھے۔ مگر جب انہیں بتایا گیا کہ خلافت کا نظام صرف اس وقت قائم ہوتا ہے جب کہ ایک فریق دوسرے فریق کے حق میں دستبردار ہوجائے۔ جیسا کہ معلوم ہے، انصار کا پہلے یہ کہنا تھا کہ: منا امیر و منکم امیر۔ مگر عملی حقائق کی بنا پر وہ ’’الأئمة من قريش‘‘ کے فارمولا پر راضی ہوگئے۔ انصار کے لیڈر سعد بن عبادہ نے یہ قربانی دی کہ وہ مدینہ چھوڑ کر شام چلے گئے اور وہاں دس سال تک رہ کر وہیں وفات پاگئے۔ ان کی اس سیاسی ہجرت کا سبب یہ تھا کہ اگر وہ مدینہ میں مقیم رہتے تو وہ ’’اپوزیشن‘‘ کی علامت بنے رہتے اور خلافت کا استحکام مشکل ہوجاتا۔ میں نے کہا کہ جہاد فی سبیل اللہ، حدیث کے الفاظ میں اہل فراست کا کام ہے، وہ اہل جذبات کا کام نہیں۔
جمال صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ زندگی نام ہے معیار سے کم (less than ideal) پر راضی ہونے کا۔ اکثر ناکامیاں، خواہ فرد کی ہوں یا قوم کی، اس لئے پیش آتی ہیں کہ لوگ اپنے ذہن میں جو خیالی معیار بنا لیتے ہیں اس سے کم پر وہ راضی نہیں ہوتے۔ جب کہ موجودہ دنیا میں معیار کا حصول ممکن ہی نہیں۔ اس لئے ایسے لوگوں کے لئے کامیابی کا حصول بھی ممکن نہیں ہوتا۔