Al-Risala · May 2002 · page

There is no second chance.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲

سعودی عرب میں اس وقت جو نظام ہے وہ معروف اصطلاح کے مطابق، ملوکیت کا نظام ہے۔ یہ نظام یقینی طور پر خلافت کے معیاری نظام سے کمتر ہے۔ مگر سعودی عرب کے مسلمان اور دنیا بھر کے مسلمان اس نظام پر راضی ہوگئے ۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ سعودی عرب موجودہ زمانہ میں اسلام اور مسلمانوں کے لئے زبردست فائدہ کا سبب بن گیا۔ موجودہ زمانہ میں جب صنعتی دور آیا تو مسلمان معاشی اعتبار سے ساری دنیا میں پچھڑ گئے ۔ کیوں کہ مخصوص اسباب سے وہ صنعتی دور میں داخل نہ ہوسکے۔ ایسی حالت میں سعودی عرب کا مستحکم نظام مسلمانوں کی اس عالمی پسماندگی کی تلافی بن گیا۔ اگر سعودی عرب میں مستحکم نظام نہ ہوتا تو اس کا وہی انجام ہوتا جو تیل کی بے پناہ دولت کے باوجود لیبیا اور نائجیریا اور عراق جیسے ملکوں کا ہوا۔

۴ نومبر کی صبح کو ساڑھے دس بجے اردو اکیڈمی کے ہال میں ایک پروگرام تھا۔ اس کا عنوان تھا: اسلام میں امن کی آئیڈیالوجی۔ اس موضوع پر میں نے ایک مختصر تقریر کی۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں میں نے بتایا کہ اسلام کی اصل پالیسی امن کی پالیسی ہے۔ اسلام میں جنگ صرف دفاع کے لئے جائز ہے اور وہ بھی اس وقت جب کہ جنگ سے اعراض کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہوں۔ جلسہ کے آغاز میں اس قرآنی آیت کی تلاوت کی گئی تھی: لا تستوى الحسنة ولا السيئة ادفع بالتي هي أحسن فاذا الذى بينك وبينه عداوة كأنه ولى حميم (حم السجدہ) اس آیت کی روشنی میں میں نے کہا کہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں دشمن اور حملہ آور میں فرق کیا گیا ہے۔ جہاں تک حملہ آور کا تعلق ہے، قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ وقاتلوا في سبيل الله الذين يقاتلونكم (البقرہ ۱۹۰) مگر دشمن کے معاملہ میں جو حکم ہے وہ اس سے مختلف ہے۔ اس کے مطابق، مسلمان ایسا نہیں کر سکتے کہ وہ کسی کو دشمن بتا کر اس کے خلاف جنگ چھیڑ دیں۔ آپ کے نزدیک کوئی فرد یا گروہ دشمن ہے تب بھی اس کے مقابلہ میں پر امن نصیحت کا طریقہ اختیار کرنا ہوگا، نہ کہ پُر تشدد کارروائی کا۔ ایک صاحب نے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ مسلمان کبھی دہشت گرد نہیں ہوسکتا۔ یہ کہہ کر انہوں نے قرآن وحدیث کے حوالے بیان کرنا شروع کئے۔ مسلمان کیا ہے، اس کو بتانے کے لئے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page