Al-Risala · January 2002 · page 23

She has good reputation of punctuality.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۳

۲ جون کی شام کو الحاج سید ابو الحسین صاحب (ممبر بنگلہ دیش پارلیمنٹ) نے کانفرنس کے تمام شرکاء کو ڈنر دیا۔ اس موقع پر ہر ایک کو ڈھا کہ کی جامدانی ساڑی بطور تحفہ پیش کی گئی۔ اس موقع پر لمبا کلچرل پروگرام ہوا۔ اس میں بنگلہ دیشی خواتین نے حصہ لیا جس میں زیادہ تر مسلم خواتین تھیں۔ مجھے کلچرل پروگرام سے کوئی دلچسپی نہیں تا ہم اس کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ بنگلہ دیش کے مسلمانوں کا کلچر بڑی حد تک وہی ہے جو مغربی بنگال کے ہندوؤں کا کلچر ہے۔ اس موقع پر رابندر ناتھ ٹیگور کے کئی گانے سنائے گئے، جب کہ پاکستان کے اقبال کا کسی نے نام نہیں لیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان اور مشرقی پاکستان میں کلچر کا کتنا زیادہ فرق ہے۔ بنگلہ دیش میں تبلیغی جماعت کا کافی کام ہو رہا ہے۔ تبلیغ کے ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تبلیغی جماعت ایک اچھا کام کر رہی ہے مگر یہی کافی نہیں۔ مثال کے طور پر ۱۹۷۱ میں جب پاکستانی اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کے درمیان مارکاٹ شروع ہوئی تو تبلیغ کے لوگ بھی اس میں شریک تھے۔ حالانکہ اس قسم کا باہمی قتل بیک وقت حرام بھی ہے اور نتیجہ کے اعتبار سے غیر مفید بھی۔ مگر تبلیغی جماعت کے افراد کو چونکہ صرف فضائل اور کہانیوں کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا، ان کے اندر کوئی وسیع تر سوچ پیدا نہیں کی گئی تھی اس لئے وہ اس معاملہ کو اسلامی نقطہ نظر سے سمجھ نہ سکے اور عام سیاسی رو کا شکار ہو گئے۔

میں نے کہا کہ فضائل کی داستانوں کی بنیاد پر کسی قوم کو اٹھانا روٹین کے حالات میں مفید ہو سکتا ہے۔ مگر زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ غیر معمولی واقعات پیش آتے ہیں۔ اس لئے لوگوں کے اندر یہ سوچ بھی ہونی چاہئے کہ وہ ان غیر متوقع حالات (eventualities) کا سامنا کرنے کے لئے بھی فکری طور پر تیار رہیں۔ یہی حادثہ ان دوسری تحریکوں کے ساتھ بھی پیش آیا جو جذباتیت یا خوش اعتقادی کی بنیاد پر اٹھائی گئیں۔ ان کے سامنے بھی جب غیر متوقع حالات پیش آئے تو وہ فکری اعتبار سے تیار نہ ہونے کی بنا پر حالات کا شکار ہو کر رہ گئیں۔ مشرقی بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) کا علاقہ وہ علاقہ ہے جہاں صدیوں سے صوفیاء کا کام

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page