Al-Risala · May 2002 · page

There is no second chance.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲

کہ اہل بدعت کے خلاف لمبی مدت تک فتاویٰ جاری کرنے کے باوجود کوئی مسلمان بدعت سے تائب نہیں ہوا، مگر تبلیغی جماعت کی دعوتی کوششوں سے بہت سے بدعتی اپنے فعل سے تائب ہو گئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تبلیغی جماعت والوں نے فتویٰ کے بجائے نصیحت و تربیت کا انداز اختیار کیا۔ اس کے نتیجہ میں لوگوں کے دل بدلے اور وہ بدعات سے تائب ہو گئے۔

مولانا محمد صدیق قاسمی نے بتایا کہ ان کی ملاقات بھوپال کے ایک عالم سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے الرسالہ اور صاحب الرسالہ کے خلاف سخت رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے صاحب الرسالہ کے بارے میں کہا کہ انہوں نے امت کے سواد اعظم سے الگ اپنا ایک تصور دین بنایا ہے۔ اور دین میں اس قسم کی انفرادیت بلا شبہ گمراہی ہے۔

مولانا صدیق قاسمی نے یہ سن کر نہایت نرم انداز میں ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے الرسالہ کے کچھ شمارے پڑھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر مزید سوال وجواب کے بعد معلوم ہوا کہ انہوں نے ادھر ادھر کی باتیں سن کر یا اردو کے بعض اخبارات میں تنقیدی مضامین پڑھ کر یہ رائے بنائی ہے۔ مولانا صدیق قاسمی نے ان سے کہا کہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے کا یہ انداز سراسر اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ آپ متعین ومحدود انداز میں بتائیں کہ الرسالہ میں کون سی بات قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ وہ کوئی ایک بھی متعین ومحدود مثال نہ دے سکے۔

موجودہ زمانہ کے لوگوں میں یہ عام مزاج بن گیا ہے کہ وہ کسی کے خلاف رائے زنی کے لئے صرف یہ کافی سمجھتے ہیں کہ اس کے بارے میں کچھ مخالفانہ الفاظ بول دیں۔ وہ تنقید اور تنقیص کا فرق نہیں سمجھتے، وہ الزام اور استدلال کے درمیان فرق کو نہیں جانتے۔ یہ بلاشبہ تمام برائیوں سے زیادہ بڑی برائی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کے لوگ زوال کے کس درجہ تک پہنچ چکے ہیں۔ دلیل کے ساتھ اعتراف کسی شخص کے زندہ ہونے کی پہچان ہے۔ اسی طرح بے دلیل انکار کسی شخص کے مردہ ہونے کی سب سے بڑی پہچان ہے۔

۵ نومبر ۲۰۰۱ء کو صبح کی نماز میں ہمارے امام صاحب نے سورہ ’’البینہ‘‘ کی تلاوت کی ۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page