There is no second chance.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲
میں انہوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی ”وما تفرق الذین اوتوا الکتاب الا من بعد ما جاءتهم البينة (اور اہل کتاب متفرق نہیں ہوئے مگر بعد اس کے کہ جب ان کے پاس کھلی دلیل آگئی)۔ اس آیت کو سن کر میں نے سوچا کہ تفرق کو بتانے کے لئے قرآن میں یہ خاص انداز کیوں اختیار کیا گیا۔ اس پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آیا کہ بینہ کے ظہور کا فطری نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ لوگوں کا تفرق ختم ہوجائے۔ وہ متحد ہوکر ثابت شدہ حق کے گرد اکٹھا ہو جائیں۔ مگر جو چیز ہوئی وہ بالکل اس کے برعکس تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ بینہ (ثابت شدہ حق) کا ظہور ایک ایسی چیز ہے جو اہل کتاب، بالفاظ دیگر، حق پرستی کے مدعیوں کے لئے ایک فیصلہ کن آزمائش بن جاتا ہے۔ اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ سچے حق پرست یہ کہہ کر اس کے ساتھ جڑ جاتے ہیں کہ یہ تو وہی چیز ہے جس کا ہم پہلے سے انتظار کر رہے تھے۔ اس کے برعکس جھوٹے مدعیوں کے لئے وہ انہیں ایکسپوز (expose) کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آنچ سونے کو سونا ثابت کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے اور جو غیر سونا ہے وہ غیر سونا ثابت ہوکر رہ جاتا ہے۔
جناب انور حسین آزاد (۵۲ سال) سے ۵ اکتوبر کی صبح کو ملاقات ہوئی۔ وہ ۱۹۹۱ سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے میں صرف جذباتی انداز میں سوچنا جانتا تھا۔ الرسالہ کے مطالعہ نے مجھے سوچنے کا صحیح طریقہ بتایا۔ اس وقت میرے سامنے آج کا ہندی اخبار دینک بھاسکر تھا۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ہندی اخبارات پہلے سادہ زبان میں نکلتے تھے جو گویا ہندی اسکرپٹ میں اردو ہوتی تھی۔ مگر آج وہ شدھ ہندی زبان میں نکلتے ہیں۔ اس تبدیلی کا راز یہ ہے کہ ہمارے درمیان ایسے مسلم مقرر پیدا ہوئے جو پرجوش انداز میں لاؤڈ اسپیکر پر چیختے تھے اور ہندوؤں کو خطاب کرتے ہوئے کہتے تھے کہ تم کو کچھ نہیں آتا تھا ہم نے تم کو مہذب بنایا، ہم نے تم کو آزادی کا لفظ دیا، ہم سے تم نے انقلاب کا لفظ پایا، ہم سے تم نے زندہ باد مردہ باد کہنا سیکھا، وغیرہ۔ مسلم مقررین کی اس طرح کی تقریروں کا ردعمل ہونا بالکل فطری تھا۔ چنانچہ ردعمل کے طور پر ہندی