ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲
اخبارات کی زبان دھیرے دھیرے بدل گئی۔ پہلے اگر حالات نے اس کا اردو کرن کیا تھا تو اب ضد کی نفسیات کے تحت اس کا سنسکرت کرن ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ہمارے اوپر ایک اردو شاعر کا شعر صادق آتا ہے:
ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
۵ نومبر کی صبح کو قیام گاہ پر بہت سے لوگ اکٹھا ہو گئے۔ ان سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ جناب محمد عمران بھوپال کے ایک تاجر ہیں ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ صحیح تفکیر کا راز یہ ہے کہ آپ ذہنی انتشار اور سوال کے فرق کو جانیں۔
You have to differentiate between question and confusion. میں نے کہا کہ میرے تجربے کے مطابق ، بیشتر تعلیم یافتہ لوگ شاید اس فرق کو نہیں سمجھتے۔ وہ ساری زندگی ایسے سوالوں کے حل میں گزار دیتے ہیں جو دراصل سوال ہی نہیں۔ وہ صرف ذہنی انتشار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اپنی اس غلطی کی بنا پر وہ سچائی کی دریافت سے محروم رہتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں ہماری عمر اتنی مختصر ہے کہ ہم اس ذہنی تعیش کا تحمل نہیں کر سکتے۔
میں نے کہا کہ سوال اور ذہنی انتشار میں فرق یہ ہے کہ حقیقی سوال اپنی ذہنی محدودیت کے اعتراف کے ساتھ کیا جاتا ہے اور ذہنی انتشار یہ ہے کہ آدمی اپنی محدودیت سے بے خبر رہ کر ایسے سوالوں کے حل میں الجھ جائے جس کی آخری حقیقت تک پہنچنا انسان کے لئے اس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔ حقیقی یقین کی بنیاد اپنی محدودیت کا اعتراف ہے۔ اس کے مقابلہ میں ذہنی انتشار یہ ہے کہ آدمی اپنی محدودیت سے بے خبر بنا ہوا ہو۔
۵ نومبر ۲۰۰۱ء کو گیارہ بجے بھوپال کے ایک ادارہ کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کا نام "شوبھم وکلانگ سماج سیوا سمیتی" ہے۔ یہ ادارہ معذور بچوں کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ اس وقت یہاں مختلف مذاہب کے ۷۵ بچے اور بچیاں موجود ہیں۔ یہاں ان کو تعلیم دلائی جاتی ہے اور انہیں مختلف قسم کے ہنر سکھائے جاتے ہیں تا کہ وہ خود کفیل ہو کر سماج میں معمول کی زندگی گزار سکیں۔ یہ ادارہ 1980 سے قائم