Al-Risala · May 2002 · page

ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲

ہے۔ وہ پہلے کرایہ کی عمارت میں تھا۔ اب وہ ایک خوبصورت ذاتی بلڈنگ میں قائم ہے۔ اب تک بہت سے بچے اور بچیاں اس ادارہ میں تعلیم و تربیت پا کر کامیابی کے ساتھ خود کفیل زندگی گزار رہے ہیں۔ بچوں اور اساتذہ کے سامنے میری ایک تقریر ہوئی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ معذور بچوں کے لئے قرآن میں محروم“ (الذاریات، المعارج) کا لفظ آیا ہے۔ یہ معذور بچے اللہ کے خاص بندے ہیں۔ وہ گویا دنیا میں اللہ کے سفیر ہیں۔ وہ واقعہ کی زبان میں کہہ رہے ہیں کہ اے لوگو، میری طرح تم بھی معذور ہو سکتے ہو۔ تم کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے تم کو معذور نہیں بنایا۔ اس شکر کی ایک عملی صورت یہ ہے کہ تم ان معذور بچوں کی مدد کر کے ان کی معذوری کی تلافی کرو۔ دوسری بات میں نے یہ کہی کہ معذوری سادہ طور پر صرف محرومی نہیں بلکہ وہ ایک ایڈوانٹیج ہے۔ معذوری آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ بے فائدہ مشغولیتوں سے بچ کر اپنے آپ کو صرف کارآمد قسم کی مشغولیت میں لگائے۔ وکلانگ سماج سیوا سمیتی کے ایک طالب علم آنندی سنگھ راجپوت ہیں۔ ان کی عمر ۲۲ سال ہے۔ وہ ہائی اسکول پاس کر چکے ہیں۔ وہ ایک ٹانگ سے معذور ہیں اور لاٹھی کے سہارے چلتے ہیں۔ انہوں نے اسی حالت میں محنت کر کے ہائی اسکول پاس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ہر وقت ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہتا ہوں۔ میں کسی سے اپنے کو کم نہیں سمجھتا۔ وہ ایک پاؤں سے معذور ہونے کے باوجود نہایت مصروف زندگی گزارتے ہیں۔

۵ نومبر کو دوپہر کا کھانا جناب محمد حسین صاحب کے یہاں تھا۔ انہوں نے کافی لوگوں کو کھانے پر مدعو کیا تھا۔ صاحب خانہ نے کہا کہ میں نے خاص طور پر ایسے لوگوں کو بھی مدعو کیا تھا جو اکثر آپ کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہاں تقریباً ۱۵ منٹ تک لوگوں کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے بعد میں بتایا کہ وہاں آنے والے کئی نوجوانوں سے ان کی گفتگو ہوئی۔ ان نوجوانوں نے کہا کہ یہاں آنے سے پہلے تک ہم مولانا اور الرسالہ کے مخالف تھے۔ ان کے بارے میں ہم منفی رائے رکھتے تھے۔ مگر آج تھوڑے وقت میں انہوں نے جو بات کہی اس نے ہماری سوچ کو بدل دیا اور ہمارے اختلاف کو ختم کر دیا۔ ان میں سے ایک نوجوان جو مقامی طور پر ایک ٹی وی چینل چلاتے ہیں انہوں نے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page