ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲
کہا کہ رمضان کے پورے مہینہ میں وہ الرسالہ سے اقتباس لے کر اس کو ٹی وی کے ذریعہ لوگوں تک پہنچائیں گے۔
آج شام کو تین بجے ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کی رہائش گاہ پر خواتین کا جلسہ ہوا۔ کافی خواتین اس میں شریک ہوئیں۔ ان کے گھر کے نیچے کا حصہ اوپر اوپر کا حصہ دونوں بھر گیا۔ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ نیچے اور دونوں جگہ آواز پہنچانے کا انتظام کیا گیا تھا۔
تقریر سے پہلے قرآن کی تلاوت کی گئی۔ اس میں یہ آیت تھی ۔ '' والذین آمنوا اشد حبا لله (البقرہ ١٦٥) میں نے اس آیت کو لے کر تقریر شروع کی۔ میں نے کہا کہ اس کے مطابق ، حب شدید صرف ایک اللہ سے ہونا چاہئے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ اپنی سب سے قیمتی چیز'' محبت‘‘ اللہ کو نہ دیں تو اللہ اپنی قیمتی چیز'' جنت‘‘ آپ کو کیوں دے گا۔ اگر آپ کو اپنے ایمان کا اندازہ کرنا ہو تو اس کا معیار یہ ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ آپ کے دل میں سب سے زیادہ محبت کس کے لئے ہے، اللہ کے لئے یا کسی اور کے لئے۔ اگر سب سے زیادہ محبت بیٹے یا بیٹی یا کسی اور چیز کے لئے ہے تو سمجھ لیجئے کہ اس آیت کے مطابق، آپ کا ایمان مطلوب معیار پر پورا نہیں اترتا۔
اس کے بعد میں نے کچھ احادیث کی روشنی میں بتایا کہ آپ کو کس اخلاق اور کردار کے ساتھ دنیا میں رہنا چاہئے، گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی۔
میں نے کہا کہ مشہور سنگر محمد رفیع کا ایک گانا ہے جو سارے ماں باپ کو بہت پسند آتا ہے۔ اس گانے کو سن کر لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ اس گانے میں ایک باپ اپنی بیٹی کو شادی کے بعد رخصت کرتا ہے۔ اس وقت وہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی بیٹی سے یہ کہتا ہے : بابل کی دعائیں لیتی جا، جا تجھ کو سکھی سنسار ملے میکے کی کبھی نہ یاد آئے سسرال میں اتنا پیار ملے عام طور پر ماں اور باپ اس کو بہت پسند کرتے ہیں۔ مگر میں اس شعر کو غیر فطری سمجھتا ہوں۔ ہر ماں باپ کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ اپنی بیٹی کو جو پیار انہوں نے اپنے گھر میں دیا ہے وہی پیار اسے غیر کے