A religion that sanctions violence.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲
گھر میں بھی ملے، یہ فطرت کے خلاف ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ خود یہی ماں باپ دوسرے گھر کی بیٹی کو وہ پیار نہیں دیتے جو اسے اپنے گھر میں شادی سے پہلے ملا ہوا تھا۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ماں باپ اپنی بیٹی کو یہ سکھائیں کہ اپنے میکے میں جو محبت تم کو ملی تھی وہ خونی رشتے کی بنا پر اپنے آپ ملی تھی۔ سسرال میں یہ محبت تم کو اپنے حسن عمل کی بنا پر ملے گی۔ جو شادی شدہ لڑکی اس فرق کو سمجھ لے اس کو اپنے سسرال سے کبھی شکایت نہیں ہوسکتی۔ ۵ نومبر کی شام کو ”ہندی بھون‘‘ میں اس سفر کا سب سے بڑا اجتماع ہوا۔ شہر کے تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہاں تقریر کا عنوان تھا’’ جہاد، ایک پری چرچا‘‘۔ مجھ سے پہلے ایک مقرر نے اپنی تقریر میں یہ کہا کہ قرآن میں بہت سی آیتوں میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ کافروں سے جنگ کرو۔ اس تقریر نے وہاں کے ماحول میں ایک زبردست تجسس کی فضا قائم کردی۔ نیز افغانستان اور امریکہ کے حالیہ واقعات کے نتیجہ میں جہاد مسلسل طور پر نیوز میں آگیا ہے۔ اس طرح جہاد کا موضوع گویا وقت کا ایک برنگ آشوب بن گیا۔
اس طرح کے ماحول میں جہاد کے موضوع پر یہ تقریر ہوئی۔ اللہ کی توفیق سے میں نے خالص قرآن وسنت کی روشنی میں جہاد کی تشریح کی۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ کچھ لوگ قرآن کی چند آیتوں کو لے کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قرآن جنگ وجدال کی کتاب ہے۔ مثال کے طور پر لندن کے اخبار ٹائمس نے اسلام کے بارے میں اپنے ایک مضمون کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا— ایک مذہب جو تشدد کو جائز قرار دیتا ہے۔
A religion that sanctions violence.
میں نے کہا کہ قرآن میں کل ۶۶۶۶ آیتیں ہیں، جب کہ قتال سے تعلق رکھنے والی آیتیں تقریباً چالیس ہیں۔ گویا ایک فیصد سے بھی کم۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ۶۶۰۰ سے زیادہ قرآنی آیتیں وہ ہیں جن میں سچائی، اخلاق، امانداری، عدل، انسانیت اور روحانیت جیسی اعلی قدروں کی تعلیم ہے۔ اور ایک فیصد سے بھی کم وہ آیتیں ہیں جن میں قتال کی بات کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ قتال کی یہ آیتیں دفاع