Al-Risala · May 2002 · page

A religion that sanctions violence.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲

کے مسئلے سے تعلق رکھتی ہیں۔ اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے۔ جارحانہ جنگ یا'' مصلحانہ جنگ‘‘ اسلام میں نہیں۔ اسلام میں مصلحانہ دعوت ہے، نہ کہ مصلحانہ جنگ۔ اصلاح بلا شبہ اسلام میں مطلوب ہے مگر اسلام میں اصلاح کے لیے تبلیغ کا طریقہ ہے، نہ کہ جنگ کا طریقہ۔

بھوپال کے مسٹرونے ترپاٹھی (Tel.: 0755 766244) ایک فری لانس رہیں۔ انہوں نے ہسٹری میں اور جزلزم میں ایم اے کیا ہے۔ ۶ نومبر کی صبح کو وہ میری قیام گاہ پر آئے اور تفصیلی انٹرویو لیا۔ ذاتی مطالعہ اور تجربے سے لے کر اسلام اور مسلمانوں کے موجودہ مسائل تک انہوں نے مختلف سوالات کئے، جن کا میں نے اپنے انداز میں جواب دیا۔

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آج کل ہر آدمی آتنک واد (ٹیررزم) کا نام لیتا ہے۔ مگر ٹریرزم کیا ہے، اس کو شاید ابھی تک واضح انداز میں بتایا نہیں گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آتنک واد کے خلاف ساری کوششیں بے فائدہ ثابت ہو رہی ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ گن ورسس گن کا معاملہ ہے۔ اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ گن کو گن کے ذریعہ کچل دیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ گن ورسس آئیڈیالوجی کا مسئلہ ہے۔ آپ اس کو جوابی آئیڈیالوجی ہی سے کچل سکتے ہیں۔ گن اور بم آتنک واد کو ختم کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔

میں نے کہا کہ اسلام کی روشنی میں، آتنک واد دراصل غیر حکومتی افراد یا تنظیموں کا ہتھیار اٹھانا ہے۔ اسلام کے مطابق، صرف قائم شدہ حکومت ہی کو اسلحہ کے استعمال کا حق ہے۔ غیر حکومتی اداروں کو کسی بھی عذر کی بنا پر ہتھیار کے استعمال کا حق حاصل نہیں۔ غیر حکومتی اداروں کو اپنے حق کے لئے پر امن طریق کار کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد چلانا چاہئے۔

آتنک واد یہ ہے کہ غیر حکومتی تنظیمیں اپنے حقوق کے نام پر ہتھیار اٹھا لیں اور اس کو جہاد فی سبیل اللہ کا نام دے کر جائز ٹھہرائیں۔ ان لوگوں کو آتنک واد سے روکنے کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ ان کی سوچ کو بدلا جائے۔ انہیں یقین دلایا جائے کہ جہاد کا نام دینے سے آپ کی ملیٹنسی جائز نہیں ہو جاتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page