A religion that sanctions violence.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲
۶ نومبر کی صبح کو گیارہ بجے عارف عزیز صاحب (۶۰ سال) میری قیام گاہ پر آئے۔ وہ اردو روزنامہ ’’ندیم‘‘ میں نمائندہ خصوصی ہیں۔ انہوں نے تفصیلی انٹرویو لیا۔ ان کے ایک سوال کے جواب میں میں نے یہ آیت پڑھی: و إن تصبرو ا وتتقو ا لا یضرکم کیدھم شيئا (آل عمران ۱۲۰) اس قرآنی اصول سے ثابت ہوتا ہے کہ آج ہم جس مسئلہ سے دوچار ہیں اس کا سبب سازش کی موجودگی نہیں بلکہ صبر وتقویٰ کی غیر موجودگی ہے۔
اس قرآنی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسائل پیدا کی صورت میں ان لوگوں کے خلاف شکایت واحتجاج کرنا جو بظاہر مسائل پیدا کرنے کے ذمے دار ہیں، یہ سراسر قرآنی تعلیم کے خلاف ہے۔ قرآن کا بتایا ہوا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم خود اپنا جائزہ لیں۔ اور لوگوں کو یہ بتائیں کہ شکایت اور احتجاج میں مشغول ہونا اپنے نقصان میں مزید اضافہ کرنا ہے۔ اصل کام یہ ہے کہ اپنے اندر تقویٰ وصبر کی صفت پیدا کی جائے۔ یہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔
ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لمبے عرصے سے کچھ نا اہل مسلم رہنما مسلمانوں کو یہ کہہ کر ڈراتے تھے کہ ہندوستان میں کٹر وادی ہندو دوسرا اسپین بنانا چاہتے ہیں۔ آزادی کے بعد جب یہاں فرقہ وارانہ فسادات ہونے لگے تو ان لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ دیکھو ملک میں دوسرا اسپین بننے کا عمل شروع ہوگیا۔ اس وقت میں نے مسلمانوں کو بتایا کہ یہ بات سراسر بے بنیاد ہے۔ ۱۹۴۷ میں یہاں مسلمانوں کی تعداد چھ کروڑ تھی، اب یہاں مسلمانوں کی تعداد بھوپال کے دینک بھاسکر (۱۷ اکتوبر ۲۰۰۱ء) کے جائزہ کے مطابق ، ۲۲ کروڑ چونسٹھ لاکھ ہو چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرا اسپین بنانے کا منصوبہ یا تو تھا ہی نہیں یا وہ عملاً نا کام ہوگیا۔ ۶ نومبر کی دوپہر کو ہندی روزنامہ ’’دینک بھاسکر‘‘ (بھوپال) کے نمائندہ ویدورت گری میری قیام گاہ پر آئے ,0855 551601 :.Tel)۔ انہوں نے تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ میں نے کہا کہ میرا مشن یہ ہے کہ ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جوتناؤ ہے وہ ختم ہو۔ اس تناؤ کی موجودگی میں کوئی بھی تعمیری کام نہیں ہوسکتا۔ ملک کی تعمیر یا ملک کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے