A religion that sanctions violence.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲، صفحہ ۲۹
بہت سے تعمیری کام ضروری ہیں۔ اور تعمیری کام درست طور پر صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب کہ ملک میں میل ملاپ اور باہمی خوشگواریکا ماحول پیدا ہو۔
میں نے کہا کہ میں نے غور کرنے کے بعد پایا کہ ہندوستان میں باہمی کشیدگی کا سب سے بڑا سبب جلوس ہیں۔ ہندو کلچر میں اور ہندو روایات میں جلوس کی بہت اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوؤں کے مذہبی جلوس نکلتے رہتے ہیں۔ یہ جلوس سڑکوں سے گزرتے ہوئے کسی ایسے مقام پر پہنچتے ہیں جہاں مسلمانوں کی مسجد ہے۔ اب مسلمانوں کو محسوس ہوتا ہے کہ جلوس کے گانے اور باجے سے مسجد کا تقدس مجروح ہورہا ہے۔ جلوس کے نعرے مسلمانوں کو مشتعل کر دیتے ہیں۔ وہ جلوس والوں سے مانگ کرتے ہیں کہ اپنا روٹ بدلو۔ اور جب وہ روٹ نہیں بدلتے تو دونوں میں ٹکراؤ کی نوبت آجاتی ہے جس کا نام فرقہ وارانہ فساد ہے۔
میں نے مسلسل کوشش کے ذریعہ یہ فارمولا دیا کہ فساد کا روك اعراض ہے۔ یعنی جلوس کو نہ روکو، اور فساد بھی نہ ہوگا۔ اب مسلمانوں نے اس فارمولا کو اختیار کر لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب ملک میں فرقہ وارانہ فساد تقریباً ختم ہو گیا ہے۔
۶ نومبر کی دوپہر کو ہندی ماہنامہ شکر و ارتا (بھوپال) کے ایگزیکیٹیو ایڈیٹر مسٹر منوہر چورے آئے (554951 .Tel)۔ انہوں نے اپنے میگزین کے لئے تفصیلی انٹرویو لیا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں لیڈر شپ ختم ہو گئی ہے۔ ایسا کیوں ہے اور اس کا علاج کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں میں لیڈر شپ ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ بدل گئی ہے۔ یعنی پرانی لیڈر شپ کی جگہ نئی لیڈر شپ آگئی ہے۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس سے پہلے کچھ نااہل پولیٹکل لوگ ان کے لیڈر بنے ہوئے تھے۔ مسلمان اب ان لیڈروں کو چھوڑ چکے ہیں۔ اب پولیٹکل لیڈر کی جگہ نیچر لیڈر ان کا رہنما بن گیا ہے۔ پولیٹکل لیڈر ان کو بہکاتا تھا، نیچر لیڈر ان کو فطرت کے مطابق رہنمائی دے رہا ہے۔ اب مسلمانوں نے فطرت کی رہنمائی میں اپنا سفر شروع کر دیا ہے۔ انسان کی فطرت اپنے آپ ترقی