Al-Risala · May 2002 · page

A religion that sanctions violence.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲

کرنا چاہتی ہے۔ اس کے اندر اپنے آپ یہ مزاج ہے کہ مواقع کو استعمال کر کے اپنا مقصد حاصل کرو۔ مسلمانوں کے نااہل لیڈر مسلمانوں کی اس فطرت کو دبائے ہوئے تھے۔ اب نااہل لیڈروں سے نجات پانے کے بعد ان کی فطرت جاگ اٹھی ہے اور ان کو حقیقت پسندانہ انداز میں رہنمائی دے رہی ہے۔ چنانچہ مسلمان آزادی کے بعد چالیس سال تک جو ترقی نہ کر سکے تھے وہ ترقی انہوں نے پچھلے پندرہ سالوں میں حاصل کرلی۔ تعلیم، اقتصادیات اور دوسرے تعمیری شعبوں میں وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آج ہندوستان کا مسلمان ہر لحاظ سے ترقی کر رہا ہے۔ اس کا منظر آپ ہندوستان کے ہر شہر، ہر گاؤں میں دیکھ سکتے ہیں۔ بھوپال کو جن لوگوں نے ۱۹۴۷ کے وقت دیکھا تھا، ان سے پوچھئے، وہ بتائیں گے کہ ۱۹۴۷ کے مقابلہ میں آج بھوپال سوگنا ترقی کر چکا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے جب یہاں ریاست قائم تھی اس وقت یہاں مبنی بر زمین اقتصادیات کا دور تھا۔ زمین چونکہ حاكم ریاست کے قبضہ میں تھی، اس لئے تمام اقتصادی امکانات ایک شخص یا ایک خاندان کے پاس تھے۔ بقیہ لوگوں کے لئے صرف یہ صورت تھی کہ وہ ریاست کے ملازم بن جائیں، اور ملازمت میں کبھی بھی زیادہ ترقی ممکن نہیں۔ آزادی کے بعد سارے ملک کی طرح بھوپال میں بھی ایک نئی تبدیلی ہوئی۔ اب یہاں مبنی بر صنعت اقتصادیات کا دور آگیا۔ صنعتی دور حقیقتاً اقتصادی انفجار (economic explosion) کا زمانہ تھا۔ سابق نظام کے برعکس اب اقتصادی ترقی ہر ایک کے لئے اتنی ہی قابلِ حصول ہوگئی جتنی کہ پہلے وہ حاکم فیملی کے کسی فرد کے لئے قابلِ حصول ہوتی تھی۔ یہ ہے جدید بھوپال میں عمومی ترقی کا راز۔ ۶ نومبر کی شام کو ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کی رہائش گاہ پر لوگ جمع ہو گئے ۔ یہاں لوگوں کے سامنے مختلف مسائل پر اظہار خیال جاری رہا۔

ایک مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان بہت سے اسلامی احکام کو بھول گئے ہیں۔ انہی میں سے ایک تالیف قلب ہے۔ تالیف قلب کی اتنی اہمیت ہے کہ اس کو اموال زکوٰۃ کے آٹھ حصوں میں سے ایک حصہ قرار دیا گیا۔ تالیف قلب کا تعلق صرف مال سے نہیں ہے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page