Al-Risala · May 2002 · page

A religion that sanctions violence.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲

بلکہ اخلاق اور برتاؤ جیسی چیزوں سے بھی۔

بھوپال میں جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے دونوں جوان یہ تھے ـــ زاہد محمد خاں اور عابد محمد خاں۔ یہ لوگ زینتھ ایجوکیشن اینڈ کیریر پرموشن سوسائٹی چلاتے ہیں اور اس کے علاوہ ایک میگزین نکالتے ہیں جس کا نام ’’صالح‘‘ ہے۔ یہ دونوں سنجیدہ اور صالح نوجوان ہیں اور ملت کے لئے کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ میری مجلسوں میں برابر آتے رہے۔ ان دونوں نوجوانوں کی ایک صفت مجھے بہت پسند آئی۔ وہ خاموشی کے ساتھ میری باتوں کو سنتے تھے۔ وہ نہ سوال کرتے تھے، اور نہ کسی بات پر حجت کرتے تھے۔ میں نے کہا کہ ہماری قوم کے اندر اگر صرف ایک صفت آجائے، وہ زندگی کے اس راز کو سمجھ لیں کہ نہ بولنے کا نام بھی بولنا ہے اور نہ کرنے کا نام بھی کرنا ہے تو ہماری ملت کے مسائل پچاس فیصد اپنے آپ حل ہوجائیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سب سے زیادہ نقصان ملت کو ان لوگوں نے پہنچایا ہے جو نہ بولنے کے وقت بولے اور نہ کرنے کے وقت کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ ۷ نومبر کی صبح برادرم محمد محفوظ فلاحی (پیدائش ۱۹۶۲) سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک ذہین اور فعّال نو جوان ہیں۔ وہ جامعۃ الحکمت کے بانی بھی ہیں اور اس کے استاذ بھی۔ ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حکمت کی تعریف بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی گذارنے کا دانشمندانہ طریقہ، اسی کا نام حکمت ہے۔

میں نے کہا کہ آپ نے حکمت کی صحیح تعریف کی۔ پھر میں نے اس پر اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ علم کے دو پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو معلومات ہے اور اس کا دوسرا پہلو وہی ہے جس کو آپ نے دانش کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ معلومات سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو ہر آدمی سادہ کوشش کے ذریعہ جان لیتا ہے۔ مگر دانش سے مراد وہ چیز ہے جس کو جاننے کے لئے خصوصی محنت کرنی پڑتی ہے۔ معلومات کی حیثیت اگر خام مال کی ہے تو دانش کی حیثیت تیار شدہ سامان کی۔

میں نے کہا کہ ظاہری سطح پر جو چیزیں ہوتی ہیں ان کو جاننے کا نام معلومات ہے۔ مثلاً آج کل اخبارات معلومات کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی اخبارات یا میڈیا کے ذریعہ دنیا کے بارے میں

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page