A religion that sanctions violence.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲
واقفیت حاصل کرتا ہے۔ اس سے تمام لوگوں کے اندر اخباری ذہن بن گیا ہے۔ اخباروں میں جو رپورٹیں آتی ہیں اسی کو وہ جانتے ہیں اور اسی سے وہ اپنی رائے بناتے ہیں۔ یہ میرے نزدیک ایک خطرناک حالت ہے۔ اس لئے کہ اخبار یا میڈیا کی حیثیت انڈسٹری کی ہے ۔ ان کا مقصد نیوز کو فروخت کرنا ہے۔ ایسی حالت میں وہ انہی خبروں کو سامنے لاتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ قابلِ فروخت ہوں۔ اور عام انسانی مزاج یہ ہے کہ اس کو سنسنی خیز باتوں سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ اچھی خبروں سے کم دلچسپی لیتے ہیں اور بری خبروں کو زیادہ شوق کے ساتھ سنتے اور پڑھتے ہیں۔ عوام کے اس مزاج نے اخبار اور میڈیا کو بری خبروں کی اشاعت کی ایجنسی بنا دیا ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے اپنا ایک دلچسپ تجربہ بیان کیا۔ میں اکثر بی بی سی لندن کی ہندی سروس کو سنتا ہوں۔ وہ اپنی خبروں کے اخیر میں اپنے سامعین کے منتخب خطوط پڑھ کر سناتے ہیں۔ ایک دن انہوں نے ایک خط پڑھ کر سنایا۔ یہ خط ماریشش کے ایک ہندو نے لکھا تھا۔ اس نے شکایت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ آپ ہندی بولنے والے علاقے کی خبریں نشر کرتے ہیں مگر آپ کے ہندی پروگرام میں ماریشش کی کوئی خبر نہیں ہوتی حالانکہ یہاں ہندی بولنے والے لوگ بہت ہیں۔ بی بی سی کے اناؤنسر نے خط کو سنانے کے بعد کہا کہ ہم تو بری خبروں کو جمع کر کے آپ تک پہنچاتے ہیں۔ ماریشش میں سب اچھی خبریں ہوتی ہیں اور میڈیا کے اصول کے مطابق ، اچھی خبر کوئی خبر نہیں : Good News is not news. میں نے کہا کہ موجودہ مسلم دنیا میں ہمارے جو قائدین ہیں وہ میڈیا کی خبروں کی بنیاد پر اٹھے ہیں۔ میرے علم کے مطابق ، کوئی بھی مسلم قائد نہیں جو قرآن کی دی ہوئی بڑی خبر (النبأ العظیم ) کی بنیاد پر اٹھا ہو۔ ایسی حالت میں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ہماری مسلم قیادتیں کس قدر بے حقیقت ہیں۔ وہ میڈیا کی دی ہوئی بری خبروں کو لے کر لیڈری کر رہے ہیں جو صرف ایک فیصد خبر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ننانوے فیصد خبریں اچھی ہیں مگر وہ میڈیا میں نہیں آئیں ، اس لئے وہ لیڈری کا اشو بھی نہیں بنتیں۔ یہی وہ صورتِ حال ہے جس نے پوری دنیا میں ــــ انڈیا سے لے کر عرب تک ہر مسلمان کو