A religion that sanctions violence.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲
منفی سوچ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور منفی سوچ سے زیادہ مہلک کوئی چیز کسی فرد یا قوم کے لئے نہیں۔ محمد محفوظ فلاحی صاحب نے کہا کہ آپ کی کتابوں کو پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ امت میں کام کا موجودہ نہج زیادہ تر جذباتی سوچ پر چل رہا ہے۔ آپ کے نزدیک امت کے احیاء کا نہج اس سے مختلف ایک اور انداز میں ہونا چاہئے۔
اس مسئلہ پر کلام کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مطالعہ اور تفکیر کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے، الف سے آغاز اور دوسرا ہے یاء سے آغاز۔ اس فرق کو نہ جاننے کی وجہ سے اکثر لوگ یاء سے اپنے ذہنی سفر کا آغاز کر دیتے ہیں، اور وہ پھر بھٹکاؤ کے سوا اور کہیں نہیں پہنچتے۔ میں نے کہا کہ خواہ عبادت کو سمجھنے کا معاملہ ہو یا سیاست کو سمجھنے کا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن کا مطالعہ کیا جائے۔ قرآن کا مطالعہ کر کے اصولی احکام کو متعین کیا جائے۔ اس کے بعد حدیث کا مطالعہ کرکے ان اصولوں کی مزید مستند تفصیل متعین کی جائے۔ اس کے بعد سیرت کا مطالعہ کر کے مستند عملی نظیر معلوم کی جائے۔ اس طرح ان تینوں قسم کے مطالعہ کے ذریعہ اسلام کا بنیادی معیار مقرر کیا جائے اور پھر اس معیار کی روشنی میں بعد کی اسلامی تاریخ کو سمجھا جائے مگر اکثر لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ بعد کے نظائر کو لے کر اسلام کی تصویر بنانے لگتے ہیں۔ یہ معکوس طریقۂ مطالعہ کبھی درست نتیجہ تک پہنچانے والا نہیں ہو سکتا۔
ایک گفتگو کے دوران ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو امریکہ میں جہاز کو بلڈنگ سے ٹکرانے کا جو واقعہ ہوا اس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیل گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری امریکی ٹی وی سی این این پر ہے۔ کیوں کہ یہ سی این این ہی تھا جس نے نیویارک کے ایک مقامی حادثہ کو ٹی وی کے ذریعہ ساری دنیا میں ایک ایک گھر میں پہنچا دیا۔
میں نے کہا کہ یہ اپنی ذمہ داری کو دوسرے کے اوپر ڈالنا ہے۔ یہ ایک قسم کی بددیانتی (dishonesty) ہے۔ میں نے کہا کہ سی این این کوئی خبر بنانے کی فیکٹری نہیں ہے، وہ وقوع میں آنے